بھٹو کا نظریہ گٹھ جوڑ کی سیاست میں دفن ہو گیا، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

مفاد پرست پی ڈی ایم کے بے روزگار سیاستدان ہوس اقتدار میں اندھے ہو چکے ہیں پنجاب حکومت پی ڈی ایم کے جلسے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈال رہی لیکن کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی۔ اسٹیڈیم کے بجائے چوک میں اکٹھا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اپوزیشن تھک چکی ہے

 بھٹو کا نظریہ گٹھ جوڑ کی سیاست میں دفن ہو گیا، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

لاہور:بھٹو کی سوچ اور نظریہ عام آدمی سے جڑا ہوا تھا آج مک مکا کی سیاست سے بھٹو کا نظریہ دفن ہو گیا۔ پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر بھٹو کے قاتلوں کو دائیں بائیں کھڑا کر کے جیالوں کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کا جیالہ پی ڈی ایم کے بیانیہ کو مسترد کر چکا ہے۔ آج یوم تاسیسی پر پی ڈی ایم کا غیر فطری گٹھ جوڑ بھٹو کے نظریے کی نفی ہے۔ ڈی جی پی آر آفس لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اپوزیشن کے اظہار رائے کی آزادی پر کوئی قدغن نہیں لیکن پنجاب میں متعدی امراض کی روک تھام کے قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 300 افراد کے اجتماع پر پابندی نہیں اور 300 افراد کیلئے سٹیڈیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔

یہ لوگ اسٹیڈیم میں جلسہ کرنے سے خود بھی خوفزدہ ہیں اس لئے چوکوں چوراہوں میں شو لگا رہے ہیں۔ تھکی ہاری اپوزیشن کی سانسیں اکھڑی چکی ہیں۔ یہ اندون سندھ سے لوگوں کو جلسے میں شرکت کیلئے بلوایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہی خاندان کی ایک رکن ملتان فتح کرنے نکلی ہیں۔ راجکماری صاحبہ کی سیاست اپنی ذات سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہوتی ہے۔ آپ کو اقتدار سے دوری، مفادات اور مقدمات کا درد ہے جس پر مرہم رکھنے کیلئے آپ معصوم عوام کو قانون کی خلاف ورزی پر اکسا کر پھنسانا چاہتی ہیں۔ معاون خصوصی نے کہاکہ جب بھی کوئی قانون ہاتھ میں لے گا تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔ ہم نہیں چاہتے کہ سکیورٹی ادارے ان کے ساتھ گتھم گتھا ہوں اور کوئی سانحہ رونما ہو۔

وزیر اعلیٰ نے صبر و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا اور اپوزیشن کی راہ میں کسی قسم کا رخنہ نہیں ڈالا گیا مگر ان کو بھی کرو نا ایس او پیز اور عدالتی فیصلوں کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان جلسہ میں پی ڈی ایم کی ناکامی انکے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔ ملتان میں پی ڈی ایم کا کھاؤ پیو پروگرام جاری ہے اور مولانا کی قیادت میں یہ لوگ سوہن حلوے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر فردوس نے کہا کہ لاہور جلسے میں بھی اگر اس طرح کی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا تو حکومت اپنی رٹ قائم کرے گی۔ اپوزیشن کی یہ ساری دکانداری سینٹ الیکشن روکنے کیلئے ہے۔

یہ لوگ سینٹ میں تحریک انصاف کی اکثریت نہیں دیکھ سکتے۔ بروقت الیکشن ایک آئینی ذمہ داری ہے جو ہر صورت پوری ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ آصفہ بھٹو کی انٹری موروثی سیاست کا ایک تسلسل ہے۔ یہاں وراثت کی طرح سیاست بھی منتقل ہوتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں عوام کو سیاسی غلامی سے آزاد کروائیں گے۔ جو لوگ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئے اور کبھی گھر سے باہر نہ نکلے ان کو پارٹی کی قیادت سونپی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی طرح پی ڈی ایم بھی انتشار کا شکار ہے۔ مریم نواز کے ساتھ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کا نہ ہونا خاندان میں انتشار اور یکساں بیانیہ کے نہ ہونے کا ثبوت ہے۔ مریم بی بی خود ہی اپنی پارٹی کی تباہی کیلئے کافی ہیں۔