گوشت کی حلال مارکیٹ پاکستان کے لیے زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔سیکرٹری لائیوسٹاک

 میٹ ایکسپورٹ انڈسٹری کو درپیش چیلنجزکے حل کے لیے محکمہ لائیوسٹاک میں اہم اجلاس

 گوشت کی حلال مارکیٹ پاکستان کے لیے زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔سیکرٹری لائیوسٹاک

 لاہور:.محکمہ لائیوسٹاک گوشت برآمد کنندگان کے مسائل حل کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر نے میٹ ایکسپورٹرز کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس اجلاس کے دوران میٹ ایکسپورٹ انڈسٹری کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے لیے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو پاکستان کے میٹ سیکٹر پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت گوشت کی حلال مارکیٹ پاکستان کے لیے زرمبادلہ کمانے کا بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس حوالے سے مختلف ممالک خصوصاً انڈونیشیا اورچائنہ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔میٹ ایکسپورٹ کے بین الاقوامی قوانین کی پابندی اور ضروری تصدیق گوشت کی برآمد کے لیے انتہائی ضروری عوامل ہیں اس کے علاوہ منہ کھر ویکسی نیشن، ڈیزیز سرویلنس اور ٹریس ابیلٹی پر موثر احکمت عملی بنا نے کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ میٹ پراسیسنگ ایک ایسا شعبہ ہے جس سے نہ صرف ملک میں وسیع سرمایہ کاری آسکتی ہے بلکہ اس کی مدد سے دودھ اور گوشت کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔اجلاس کے دوران انڈونیشیا میں مقیم پاکستانی تجارتی اتاشی نے ویڈیولنک پرخصوصی شرکت کی اور میٹ ایکسپورٹرز کو درپیش چیلنجز پر مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ محکمہ لائیوسٹاک نے میٹ ایکسپورٹرز کوہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی اور اس حوالہ سے مستقبل میں مزید بات چیت پر اتفاق کیا گیا۔ اس اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری (پلاننگ)، ایڈیشنل سیکرٹری (ٹیکنیکل) اور دیگر محکمانہ افسران نے بھی شرکت کی۔