امن،بھائی چارہ اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے پیغام پاکستان کانفرنس کا انعقاد

بھارت میں 11ہندوؤں کے قتل کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔صوبائی وزیر اقلیتی امور اعجاز عالم

امن،بھائی چارہ اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے پیغام پاکستان کانفرنس کا انعقاد

لاہور:.پاکستان میں امن اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے محکمہ انسانی حقوق اور سسٹینیبل سوشل ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے باہمی اشتراک سے:پیغام پاکستان/مذہبی ہم آہنگی: کے عنوان سے لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں کانفرنس کاا نعقا د کیا گیا۔جس میں مختلف مذہبی سکالر ز،ممتاز علمائے کرام،سیاسی و مذہبی رہنماؤں سمیت دیگر ادیان سے تعلق رکھنے والے حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ڈی جی آئی آر آئی پروفیسر ڈاکٹر محمدضیاء الحق نے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی تا کہ معاشرہ میں عدام برداشت،نفرت انگیز تقاریر وغیرہ کی روک تھام یقینی بنائی جائے تاہم سمجھتے ہیں کہ آج بھی ضرورت ہے کہ پالیسی کا جائزہ لیکر وقت کے حساب سے تبدیلیاں اور عمل در آمد کروایا جائے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ حضرت محمد مصطفی  ؐکی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی، اصلاحی اور فلاحی ریاست بنانے کے لئے مل کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے علمائے کرام کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور یقینی طور پر آج کا روحانی اجتماع پاکستان اور دنیا بھر میں اتحاد، ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کے پیغام کے ذریعے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے میں اہم اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر انسانی حقوق واقلیتی امور اعجاز عالم نے کہا کہ تمام مذاہب میں سب سے پہلے انسانیت کا ذکر آتا ہے اور انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جس معاشرے میں انسانیت نہ ہو وہ کبھی پروان نہیں چڑھ سکتا۔ دین اسلام سمیت تمام مذاہب احترام انسانیت اخوت،محبت اور امن کا درس دیتے ہیں جبکہ قرآن پاک اور بائبل میں پیار اور امن کا مشترکہ پیغام ہے،تمام مذاہب کے لوگوں کو سوسائٹی کے ساتھ ملکر ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہوگا جسکی بناء پر معاشرے میں بیگاڑ پیدا ہو رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے حا ل ہی میں ہندوستان میں 08سال قبل پاکستان سے بھارت منتقل ہونیوالے11 ہندوؤں کے بہیمانہ قتل کی بھی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی حکومت نے نہ صرف مسلمانوں کے لئے جینا دشوار کیا ہوا ہے بلکہ ہندوؤں کے دلوں میں بھی نفرت کی چنگاریاں سلگا رہا ہے اور مودی یقین کر لے کہ ظلم بڑھتے بڑھتے ایک دن مٹ جا تا ہے جبکہ دنیا جان چکی ہے کہ بھارتی افواج کس طرح معصوم و نہتے کشمیریوں پر ظلم کی داستان رقم کر رہی ہے اور اب وہ دن دور نہیں جب کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔انہوں نے مزید کہاکہ آج کی عظیم الشان کانفرنس کے انعقاد پر یقینی طور پر سسٹینیبل سوشل ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن سے منسلک سید کوثر عباس صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں،جنہوں نے مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے آج کی اہم کانفرنس کا انعقاد یقینی بنایا اور ہم سب کو موقع دیا کہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر آپس میں امن،محبت اور رواداری کو فروغ دینے کے لئے ملکر مزید آگے بڑھ سکیں۔ پاکستان میں جس طرح مسلمانوں کے حقوق ہیں،ایسے ہی دیگر مذاہب کے بسنے والے مسیحی،ہندو،سکھ بھائیوں کے حقوق ہیں،محکمہ انسانی حقو ق و اقلیتی امور کے پلیٹ فارم سے تمام شہریوں کی جان و مال،عزت وآبرو کی حفاطت یقینی بنا رہے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے اپنے مذاہب پر کاربند رہتے ہوئے ان لوگوں کا تعاقب کرنا ہے جو آپس میں نفرتیں پھیلاتے ہیں اور دوسرے مذاہب کے خلاف توہین آمیز رویہ اپناتے ہیں تاہم اس طرح کی کانفرنس کا انعقاد امن،بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے منفرد اہمیت کا حامل بن سکتا ہے، بلا شبہ اخلاقیات اور انسانی حقوق ہر مذہب کا لازمی جزو ہیں اور امید کی جا سکتی ہے کہ آج کی کانفرنس اتحاد و ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرے گی۔کانفرنس کے اختتام پر مختلف رہنماؤں کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں امن ایوارڈ دیئے گئے اور مشترکہ اعلامیہ پیش کیا گیا جبکہ پاکستان بھر میں امن قائم کرنے کے حوالے سے متفقہ طور پر قرارداد کی منظوری بھی دی گئی۔کانفرنس میں ڈائریکٹر آئی آر آئی رستم خان،پنجاب یونیورسٹی میں اسلامک سٹڈیز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر حماد،ایڈوائزر ٹو چیئرمین بی او جی پنجاب یونیورسٹی نذیر حسین،امام بادشاہی مسجد مولانا عبدالخبیر آزاد،چیئرمین پیس کونسل پاکستان مسز شبنم ناگی،مولانا رشید ترابی،مفتی عشر احمد،مولانا نعیم ہادیا،سردار ترشن سنگھ،محترمہ نورین سیال،پیر محمد ضیاء الدین سمیت متعدد دیگر اسکالرز نے شرکت کی۔