آئی جی پنجاب کی زیر صدارت لاہور پولیس کے پیشہ ورانہ امور سے متعلق سنٹرل پولیس آفس میں اجلاس

ڈولفن اور پی آر یوکے موثر پٹرولنگ پلان سے سٹریٹ کرائم کی روک تھام اورٹریفک مینجمنٹ کو مزید بہتر بنایا جائے۔آئی جی پنجاب

آئی جی پنجاب کی زیر صدارت لاہور پولیس کے پیشہ ورانہ امور سے متعلق سنٹرل پولیس آفس میں اجلاس

لاہور:-انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے کہا ہے کہ لاہور میں شاہراہوں بالخصوص مرکزی شاہرات اور حساس مقامات پر ٹریفک مینجمنٹ کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے دستیاب وسائل اورجدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کئے جائیں جبکہ چیف ٹریفک آفیسر سمیت دیگر سینئر افسران خود فیلڈ میں نکل کر انسپکشن اور مانیٹرنگ کے علاوہ ٹریفک کنٹرول پلان اور اس پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے رہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ دوران ڈیوٹی شاہرات کی سائیڈز پر کھڑے رہنے یا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والے ٹریفک وارڈنز کو وارننگ دی جائے اور اس کے بعد بھی ڈیوٹی میں غفلت برتنے والوں کے خلاف محکمانہ کارروائی میں تاخیر نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈولفن اور پی آر یو ٹیموں کی شاہرات پر ڈیوٹی اورپٹرولنگ کو مزید بہتر کیا جائے تاکہ ٹریفک کے ہموار بہاؤ اور روانی کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سٹریٹ کرائم کے واقعات کی روک تھام ہوسکے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ون ویلنگ اور اوور سپیڈنگ کے خاتمے کیلئے سی سی ٹی وی کیمروں سے بھرپور معاونت لی جائے اورن ویلنگ میں ملوث نوجوانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ساتھ انکے والدین سے شورٹی بانڈزلئے جائیں تاکہ اس خونی کھیل کا خاتمہ کرکے قیمتی انسانی جانوں کو تحفظ دیا جاسکے۔ انہوں نے شاہرات پر بھکاری و پیشہ ور گداگر مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لانے کے لیے سی سی پی او لاہور کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی ٹیموں کے ساتھ مل کر پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھی جائیں جبکہ بچوں سے بھیک منگوانے والے پیشہ ور بھکاری مرد و خواتین کے خلاف بطور خاص کارروائیاں کی جائیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ سڑکوں اور شہر کے مختلف علاقوں میں نشئیوں کے خلاف آپریشن کا جلد سے جلد آغاز کیا جائے اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہوراشفاق خان نے آئی جی پنجاب کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ نشئی افراد کے خلاف کارروائی کے بعد انہیں دوبارہ زندگی کی جانب بحالی کے لیے محکمہ صحت 100بستر کا  وارڈ مہیا کر رہا ہے جہاں انہیں علاج کے لیے رکھا جائے گا لہذا اگلے چند روز میں نشئی مافیا کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیا جائے گا۔ آئی جی پنجاب انعام غنی نے ڈی آئی جی آپریشنز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ڈاکٹرز یا دیگر عملہ ان نشئیوں کوصحت یابی کے بعد ڈسچارج نہ کرے انکو وہاں سے جانے نہ دیا جائے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ شاہراہوں پر مختلف جرائم میں ملوث خواجہ سراؤں اور فاحشہ عورتوں کے خلاف بھرپور پولیس کاروائیوں کو یقینی بنایاجائے۔یہ ہدایات انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں لاہور پولیس کے پیشہ ورانہ امور اور ٹریفک مینجمنٹ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

دوران اجلاس سی سی پی او، ڈی آئی جی آپریشنز اور سی ٹی او لاہور نے ٹریفک روانی اور گداگری سمیت مختلف امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لاہور شہر کے تمام انڈر پاسوں سمیت مرکزی شاہرات پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، گداگر مافیا اور سٹریٹ کرائم میں ملوث مجرمان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کے حوالے سے سیف سٹی کے کیمروں سے بھی بھرپور استفادہ کیا جارہا ہے جس پر آئی جی پنجاب نے تاکید کی کہ ٹریفک قوانین سے شہریوں کی آگاہی کیلئے ایجوکیشنل مہم کو جاری رکھا جائے جبکہ ساتھ ہی ٹریفک حادثات کی روک تھام کیلئے پولیس ٹیمیں اپنے فرائض مزید تندہی کے ساتھ سر انجام دیں۔ آئی جی پنجاب نے مزیدکہاکہ ٹریفک پولیس پنجاب پولیس کا انتہائی اہم جزو ہے جو شاہرات پر اپنے رویے اور پروفیشنلزم سے محکمہ پولیس کی نمائندگی کرتے ہیں لہذا بہترپلاننگ اور وسائل کے موثر استعمال سے اس کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ سی ٹی او ٹریفک حادثات میں کمی اور شہریوں کی سہولت کے حوالے سے تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے جامع اور مؤثر حکمت عملی اختیار کریں۔ اس موقع پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ،ڈی آئی جی لیگل جواد ڈوگر، ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق احمد خان، سی ٹی او لاہور کیپٹن (ر) سید حماد عابداور ایس ایس پی آپریشنز فیصل شہزاد سمیت دیگر افسران موجود تھے۔

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Unknown: write failed: No space left on device (28)

Filename: Unknown

Line Number: 0

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Unknown: Failed to write session data (files). Please verify that the current setting of session.save_path is correct (/var/lib/php/session)

Filename: Unknown

Line Number: 0