2 سال میں فیصلہ شدہ 43 ہزار 546 مقدمات کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ

پراسیکیوٹرز نے اس عرصے میں 2 لاکھ 93 ہزار مقدمات میں درخواست ضمانت پر دفاع کیا لیگل ایڈ ایجنسی مفلس افرادکو فوجداری جبکہ عائلی مقدمات میں خواتین کو قانونی مدد فراہم کرتی ہے گواہوں کی بلاخوف گواہی کیلئے پنجاب تحفظ گواہان ایکٹ قانون متعارف کرایا گیا، ترجمان پبلک پراسیکیوشن

 2 سال میں فیصلہ شدہ 43 ہزار 546 مقدمات کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ

لاہور:محکمہ پبلک پراسیکیوشن پنجاب نے موجودہ حکومت کے 2 سال کے دوران فیصلہ شدہ 43 ہزار 546 عدالتی مقدمات کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ اور آن لائن کر دیا ہے۔ ہمہ جہت مربوط کمپیوٹر سسٹم مقدمات میں مختلف مراحل میں پیشرفت دیکھنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ پبلک پراسیکیوشن کے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی قیادت اور وزیر پبلک پراسیکیوشن چودھری ظہیرالدین کی نگرانی میں گزشتہ 2 سال کے دوران محکمے کی استعدادکار بڑھانے کیلئے متعدد اقدامات کئے گئے۔ اگست 2018 سے جون 2020 تک پراسیکیوٹر افسروں نے ایک لاکھ 84 ہزار  773مقدمات میں پولیس کی طرف سے پیش کی گئیں استدعا برائے حصول جسمانی ریمانڈ پر اپنی آزادانہ رائے دی اور ان درخواستوں کی عدالتوں میں سرکارکی طرف سے پیروی بھی کی۔

اسی طرح کل 2 لاکھ 93 ہزار539 مقدمات میں ملزموں کی طرف سے دائرشدہ درخواست ضمانت پرسرکار کی جا نب سے دفاع بھی کیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ مقدمات کی تفتیش کا معیار بہتر کرنے کے لئے  پولیس اور پراسیکیوٹرز ہم آہنگی پیدا کرنے کی طرف خصوصی تو جہ دی گئی۔ اس مقصد کے لئے صوبائی سطح سے اضلاع تک کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ سنگین جنسی تشدد کے مقدمات میں تفتیشی معیار کو بہتر کرنے کے لئے ایک چیک لسٹ متعارف کرائی گئی ہے جس میں ان تمام ضروری شہادتوں کو شامل کیا گیا ہے جن کا مقدمے کے چالان داخل عدالت کرتے وقت ا حاطہ کرنا ضروری ہے۔

تما م انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں کام کرنے والے پراسیکیوٹرز صاحبان کے لئے بھی رہنما اصول وضع کئے گئے۔ ترجمان نے بتایا کہ متاثرہ اشخاص اور مقدمے کے گواہوں کو بلاخوف و خطر گواہی دینے کے قابل بنانے کیلئے پنجاب تحفظ گواہان ایکٹ قانون متعارف کرایا گیا۔  26 اپریل 2019 کو پنجاب تحفظ گواہان بورڈ بھی تشکیل دیا جا چکا ہے۔ پبلک پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے پنجاب لیگل ایڈ ایکٹ 2018 کے تحت 29 ستمبر 2019 کو لیگل ایڈ ایجنسی قائم کی گئی جس کا مقصد مفلس اور نادار افرادکو فوجداری جبکہ عائلی مقدمات میں خواتین کو قانونی مدد  فراہم کرنا ہے۔ پراسیکیوٹر حضرات کی کمی کو پورا کرنے کیلئے بھی خاطر خواہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ بذریعہ پنجاب پبلک سروس کمیشن مئی 2019 میں 8 ڈپٹی پراسیکیوٹرز جنرل اور جنوری 2019 میں 123 اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرز کی تعینا تی عمل میں لائی گئی جبکہ 18 ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرزاور 90 اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرزکی تعینا تی ماہ رواں (ستمبر) میں مکمل ہو جا ئے گی۔

معذور کوٹے کے تحت17 اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرز کی بھرتی کیلئے پنجاب پبلک سروس کمیشن کو باضابطہ درخواست کی گئی جس پر کمیشن نے 2 امیدواروں کی تقرری کی سفارش کی جن کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ سال 2019-20 میں پنجاب کے اضلاع لیہ، سیالکوٹ اور اوکاڑہ میں پراسیکیوشن دفاتر کی تعمیر مکمل ہوئی جبکہ اٹک، میانوالی، بھکر، منڈی بہاؤالدین، نارووال، حافظ آباد، ساہیوال، ملتان، ڈیرہ غازی خان اور شیخوپورہ کے اضلاع میں پراسیکیوشن دفاتر کی تعمیر جون 2021 تک مکمل ہو جائے گی۔