جتنا بڑاچور ہو وہ اتنا ہی زیادہ شور ڈال کر کرپشن چھپانے کی کوشش کرتا ہے، میاں اسلم اقبال

چند کرائے کے لوگ ساتھ لاکراپنے اوپر پھولوں کی پتیاں نچھاور کراکے کرپشن چھپ نہیں سکتی آزاد اداروں سے ریلف ملے تو خوش، فیصلہ خلاف آئے تو اداروں پر چڑھ دوڑتے ہیں لوٹ مار سے بنائی گئی جائدادوں کا حساب دینا پڑے گا، علاج کیلئے باہر جانے والے کو بھی واپس آنا ہوگا، میڈیا سے گفتگو

جتنا بڑاچور ہو وہ اتنا ہی زیادہ شور ڈال کر کرپشن چھپانے کی کوشش کرتا ہے، میاں اسلم اقبال

لاہور:صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے کہا ہے جو جتنا بڑا چورہو وہ اتنا ہی زیادہ شور ڈال کر کرپشن چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ چند کرائے کے لوگ ساتھ لاکر اپنے اوپر پھولوں کی پتیاں نچھاور کراکے کرپشن چھپ نہیں سکتی، لندن تو کیا پاکستان میں بھی پراپرٹی نہ ہو نے کی دعویدار کی اب جائدادیں کہاں سے نکل رہی ہیں۔ ا ن کو حساب دینا پڑے گا۔ علاج کے لئے ملک سے باہر جانے والے کو بھی واپس آنا ہوگا، عدالتیں، نیب اور دیگر ادارے آزاد ہیں۔ انکے فیصلوں سے اگر انہیں ریلف ملے تو خوش ھوتے ہیں، فیصلے خلاف ہوں تو اداروں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ انکی لوٹ مار اور کرپشن عیاں ہوچکی ہے۔ صوبے بھر میں 20کلو آٹے کاتھیلا 860روپے اور 10کلوکاتھیلا430روپے میں ہر جگہ دستیاب ہے۔

صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے ان خیالات کا اظہار آج چاندنی چوک ڈھولن وال میں کھلی کچہری کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے کھلی کچہری کے دوران لوگوں کے مسائل سنے اور بعض مسائل کے حل کیلئے موقع پر موجود متعلقہ محکموں کے افسران کو احکامات جاری کئے۔ لوگوں کے زیادہ تر مسائل واسا، بجلی اور سوئی گیس کے اضافی بلوں اور سماجی اداروں سے متعلقہ تھے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت عوام کو سستے آٹے کی فراہمی کے لئے ہر ماہ ساڑھے 6ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔ ہم نے گندم کی خریداری کاہدف پوراکیا، برآمدی گندم بھی پہنچ رہی ہے اس لئے پنجاب کو گندم کی کسی قلت کا سامنا نہیں۔

تمام اضلاع کی ضروریات کے مطابق فلور ملوں کو گندم دی جارہی ہے اور سبسڈائز گندم حاصل کرنے والی ملیں 15اور25کلو آٹے کے تھیلے نہیں بنا سکتیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کی مانیٹرنگ کا موثرنظام بنا گیا ہے، ہفتے میں دو بار ٹاسک فورس برائے پرائس کنٹرول کا اجلاس ہوتا ہے اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے بھی رپورٹس حاصل کی جاتی ہیں دعوے سے کہتا ہوں کہ پنجاب میں آٹا سستا اور مقررہ نرخوں پر مل رہا ہے دوسرے صوبوں سے موازنہ کیا جائے تو فرق واضح ہو جائے گا۔ روٹی کی قیمت کے بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے روٹی اور نانبائی ایسو سی ایشن کے ساتھ مل کر روٹی کی قیمت 7 روپے طے کی ہے اور اس پر عملدرآمد کرا جارہا ہے، مقررہ قیمت سے زائد پر روٹی فرو خت کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہوگی