پاکستان سمیت دنیا بھر میں آٹزم سے آگاہی کا عالمی دن 2منایا گیا، مشہور سائنسدان آئن اسٹائن بھی آٹزم کا شکار تھے ، ڈائریکٹر پاکستان سینٹر فار آٹزم

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آٹزم سے آگاہی کا عالمی دن 2منایا گیا، مشہور سائنسدان آئن اسٹائن بھی آٹزم کا شکار تھے ، ڈائریکٹر پاکستان سینٹر فار آٹزم

اسلام آباد :پاکستان سمیت دنیا بھر میں نفسیاتی عارضے آٹزم سے آگاہی کا عالمی دن 2منایا گیا۔

اعصابی خرابی کے حوالہ سے عوام میں شعور آجاگر کرنے کے حوالی سے ہر سال یہ دن 2 اپریل کو منایا جاتا ہے۔ گزشتہ 10 تا 15 سال کے دوران پاکستان میں آٹزم کے حوالہ سے شعور میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان سینٹر فار آٹزم کی ڈائریکٹر ساجدہ علی نے کہا ہے کہ آٹزم سے متاثرہ بچوں میں بولنے، سمجھنے اور سیکھنے کی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں اور تاحال اس کا علاج یا اس کے اسباب دریافت نہیں کیے جا سکے ہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آٹزم کا شکار ہونے والے افراد کسی اہم موضوع یا بحث میں کسی خاص نکتہ پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پاتے اور اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ مزید برآں انہیں دوسروں کے جذبات سمجھنے میں بھی دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آٹزم کا شکار افراد کو بات چیت کرنے، زبان سمجھنے اور استعمال کرنے میں دشواری، لوگوں کے ساتھ سماجی تعلقات استوار کرنے اور اپنے رویے اور تخیلات کو استعمال کرنے میں دشواری پیش اتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آٹزم نیورولوجیکل ڈس آرڈر یعنی اعصابی خرابی ہے اور یہ پیدائشی ہوتی ہے جو ساری عمر رہتی ہے۔

ساجدہ علی نے مزید کہا کہ آج کے جدید دور میں ایک عام تاثر یہ ہے کہ اسمارٹ فون کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بچوں میں یہ مرض پرورش پانے لگا ہے لیکن اس خیال کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں میں اس اعصابی خرابی کا 6 ماہ کے اندر بھی پتہ چل سکتا ہے کیونکہ 6 ماہ کا بچہ آواز دینے پر متوجہ ہوتا ہے، مسکراتا ہے یا اس کی آنکھوں میں تاثرات ظاہر ہوتے ہیں لیکن آٹزم کا شکار بچے کو کسی کی آواز پر متوجہ ہونے میں وقت لگتا ہے۔ ایسے بچوں کو سوشل کمیونیکیشن میں بہت زیادہ پریشانی ہو سکتی ہے۔ وہ اپنی مطلوبہ شے کو یا تو خود حاصل کرنے کی کوشش کریں گے یا اس تک نہیں پہنچ سکیں گے تو رونا شروع کر دیں گے لیکن کسی سے بات کر کے اپنی طلب کا اظہار نہیں کر سکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس خرابی میں 2 انتہائیں ہو سکتی ہیں۔ مشہور سائنسدان آئن اسٹائن بھی آٹزم کا شکار تھے اور وہ بھی ایک انتہا پر تھے۔ اس اعصابی خرابی کی ایک انتہا ایسے بچوں کے ذہنی طور پر بہت زیادہ فعال ہونے کی یا دوسرے لفظوں میں ذہین ہونے کی ہے یا پھر ان میں کوئی خاص صلاحیت قدرتی طور پر موجود ہو سکتی ہے۔

دوسری انتہا میں بچہ عام بچوں کی نسبت کند ذہن ہو سکتا ہے اور اسے کچھ نیا سیکھنے یا سمجھنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ آٹزم کے عالمی دن کی مناسبت سے پاکستان میں بھی مختلف سرکاری، غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں کی جانب سے اس دن کی مناسبت سے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد عوام میں آٹزم کے حوالہ سے شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ اعصابی خرابی کے شکار افراد کی زندگی میں بہتری لائی جا سکے