خون ہوا ’’اسمارٹ‘‘، چاند کو لگا زنگ

دنیا بھرمیں پھیلی عالمی وبا ء کو رونا وائرس کے باوجود ایجادات کا سمندر مزید گہرا ہوا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تحقیق اور ایجادات کسی بھی ملک کی ترقی کے دواہم پہلو ہیں

خون ہوا ’’اسمارٹ‘‘، چاند کو لگا زنگ

 ٹیکنا لو جی کی دنیا کو مزید وسیع کرنے کے لیے رواں سال سائنس دانوں نے حیران کن دریافتوں اور یجادات کے بے شمار جھنڈے گاڑے ۔اور علم و حکمت ،دریافتوں اور ایجادات کے درخت میں متعدد شگوفے پھوٹے۔ دنیا بھرمیں پھیلی عالمی وبا ء کو رونا وائرس کے باوجود ایجادات کا سمندر مزید گہرا ہوا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تحقیق اور ایجادات کسی بھی ملک کی ترقی کے دواہم پہلو ہیں ۔

ان کے بغیر ترقی کرنا ممکن نہیں ۔ماہرین نے رواں سال فلکیات کی دنیامیں نت نئے سیارے دریافت کیے ،مختلف کاموں کے لیے روبوٹس تیار کیے گئے۔ خون کے اسمارٹ خلیات بنائے گئے اور بہت کچھ منظر عام پر آیا ۔2020 ء میں ٹیکنالوجی کی دنیامیں مزید کیا کیا ہوا ،اس کا اندازہ آپ کو ایجادات کی جائزہ رپورٹ پڑھ کر ہو جائے گا ۔

 

چاند کی مٹی سے آکسیجن بنانے کے لیے پلانٹ تیار

چاند پر آبادیاں بسانے کی انسانی خواہش کو پورا کرنے کے لیے2020 ءمیں یورپی سائنس داں نے ایک چھوٹا پلانٹ تیار کیا جو چاند کی مٹی سے آکسیجن کشید کرسکتا ہے ۔اس مٹی کو ’’قمری ریگو لتھ ‘‘ بھی کہا جا تا ہے ۔ چاند کے پتھروں میں 40 سے 45 فی صد آکسیجن ہوتی ہے ۔سائنس دانوں نے پگھلے ہوئے نمک کی برق پاشیدگی کے عمل کو استعمال کیا ہے ۔اس عمل کے لیے ماہرین نے پہلے چاند کی مٹی کو ایک پیالے میں ڈالا اور کیلشیئم کلورائیڈ نمک کو 950 درجے سینٹی گریڈ پر گرم کرکے پگھلا کر مٹی میں ملا یا ۔اس گرمی پر بھی ریگو لتھ ٹھوس ہی رہا ۔ 

بعدازاں اس آمیزے میں ہلکی بجلی شامل کی گئی توچاند کی گرد سے آکسیجن خارج ہونے لگی ۔ اس عمل میں پگھلے ہوئے نمک نے بجلی گزرنے میں الیکٹرولائٹ کی طرح مدد کی اور آکسیجن اس کے ایک سرے یعنی اینوڈ پر جمع ہوتی گئی۔اس چھوٹے پلانٹ سے ثابت ہوا کہ چاند کی مٹی سے آکسیجن نکالنا ممکن ہے، جس کو مزید عمل سے گزار کر انسانوں کے لیے چاند پر آکسیجن کی تیاری ممکن ہوجائے گی۔