بچے اور اسکرین ٹائم کا مؤثر استعمال

چاہے بڑے ہوں یا بچے، یہ بات ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جب آپ اسکرین استعمال کرنے لگتے ہیں تو آپ کو اس کی بہت جلد ایسی عادت ہوجاتی ہے کہ اس سے دور رہنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلاجاتا ہے

بچے اور اسکرین ٹائم کا مؤثر استعمال

رولڈ ڈاہل کی 1964ء میں شائع ہونے والی کتاب ’چارلی اینڈ دی چاکلیٹ فیکٹری‘ میں لکھا ہے،’’خدارا، خدارا، ہم ہاتھ جوڑتے ہیں، جاؤ اپنے ٹی وی پھینک آؤ اور ان کی جگہ آپ اسی دیوار پر خوبصورت کتابوں کی الماری نصب کر لو‘‘۔چاہے بڑے ہوں یا بچے، یہ بات ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جب آپ اسکرین استعمال کرنے لگتے ہیں تو آپ کو اس کی بہت جلد ایسی عادت ہوجاتی ہے کہ اس سے دور رہنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلاجاتا ہے۔ بچوں کے معاملے میں یہ عادت اس لیے اور بھی زیادہ سنگین ہوجاتی ہے کہ اس کے باعث بچوں کے ذہنوں میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں، جن کے بارے میں ہم آہستہ آہستہ جان رہے ہیں۔ 

ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کے اثرات صرف بُرے ہی ہیں لیکن یہ اچھے بھی نہیں ہیں۔ تاہم اس بات کا ادراک ہونا بھی اہم ہے کہ اسکرینز کو کس طرح مفید انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور کس وقت ان کا استعمال ترک کرکے اس کے مثبت اثرات سے بچوں کو کس طرح مستفید کیا جاسکتا ہے۔عالمی شہرت یافتہ مفکر افلاطون نے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ شاعری اور ڈرامہ نوجوان ذہنوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اسی نوعیت کی پریشانی ان والدین کو بھی ہوئی جن کے گھروں میں شروعات سے ہی ٹیلی ویژن نے ایک لازمی حیثیت حاصل کی۔ والدین اس دوران بھی بچوں کو ٹیلی ویژن کا عادی ہونے اور اس کی وجہ سے آنکھوں کے متاثر ہونے کے حوالے سے خبردار کرتے تھے۔

ایک طرف جہاں کتب بینی سے بچوں کی علمی قابلیتوں میں اضافہ ہوتا ہے، وہیں ہمیں اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں پروان چڑھ رہے ہیں جہاں ہر جانب اسکرینز موجود ہیں۔ مختلف مطالعوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بچے جن کی عمر دو سال سے کم ہے وہ دن میں تین گھنٹے اسکرینز کے سامنے گزارتے ہیں۔ 

یہ دورانیہ پچھلے 20 سال میں دُگنا ہوا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق اسکول جانے کی عمر والے بچوں میں 49 فیصد کا دو گھنٹے سے زیادہ اسکرین دیکھنے کا دورانیہ رہا اور 16 فیصد کا چارگھنٹے سے زائد۔

اسکرین ٹائم بڑھنے سے بچوں کی جسمانی سرگرمیاں کم ہوجاتی ہیں، ورزش میں کمی آتی ہے، وزن بڑھتا ہے اور خاندان کے ساتھ اکھٹا کھانا کھانے کے کم مواقع میسر آتے ہیں۔ اس کے باعث بچوں کو بڑی عمر میں نیند کی کمی جیسے مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق وہ بچے جن کے کمرے میں ٹی وی موجود ہے، وہ ہر روز 31 منٹ کم سوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچوں کو ٹیلی ویژن بالکل نہیں دیکھنا چاہیے۔