معروف شاعر و ادیب احمد فراز

ان کا اصل نام سید احمد شاہ ' تھا۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا۔ ایڈورڈ کالج ( پشاور ) میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کے لیے فیچر لکھنے شروع کیے۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ " تنہا تنہا " شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد ریڈیو سے علیحدہ ہو گئے اور یونیورسٹی میں لیکچر شپ اختیار کر لی

معروف شاعر و ادیب احمد فراز

تالیف:

14 اگست 1947 کو تشکیل ِپاکستان کے بعد گو کہ پاکستان اور بھارت میں ادباءو شعراءکا تبادلہ ہوتا رہا لیکن اس کے باوجود اردو کا دامن ادب سے بھرا رہا 47 ءمیں پاکستان میں رئیس امروہوی، جوش ملیح آبادی، قتیل شفائی، عارف عبدالمتین اور احمد ندیم قاسمی جیسے مصنفین اور شاعر موجود تھے، جو اردو ادب کی آبیاری کرتے رہے، لیکن ان میں تمام ادباءو شعرا اپنی کاوش سے ادب کے حامل ہوئے لیکن اس کو اگلی نسل تک نہیں پہنچا سکے، بہت کم ادیب ایسے تھے جن کی اولاد نے بھی اپنے اسلاف کے نام کو چار چاند لگائے ان میں ایک شبلی فراز بھی شامل ہیں جن کے والد احمد فراز نے شاعری میں ایک خصوصی مقام حاصل کیا اور ان کا ہونہار بیٹا سیاست میں آکر والد کی شہرت کو چار چاند لگانے لگا آج شبلی فراز وفاقی وزیر اطلاعات کی حیثیت میں خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کے والد احمد فراز 12 جنوری 1931ءمیں کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔

ان کا اصل نام سید احمد شاہ ' تھا۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا۔ ایڈورڈ کالج ( پشاور ) میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کے لیے فیچر لکھنے شروع کیے۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ " تنہا تنہا " شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد ریڈیو سے علیحدہ ہو گئے اور یونیورسٹی میں لیکچر شپ اختیار کر لی۔ اسی ملازمت کے دوران ان کا دوسرا مجموعہ " درد آشوب "چھپا جس کو پاکستان رائٹرزگلڈ کی جانب سے " آدم جی ادبی ایوارڈ " عطا کیا گیا۔ یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سینٹر (پشاور) کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ انہیں 1976 ءمیں اکادمی ادبیات پاکستان کا پہلا سربراہ بنایا گیا۔ بعد ازاں جنرل ضیاءکے دور میں انہیں مجبوراً جلا وطنی اختیار کرنی پڑی۔1989ءسے 1990ءچےئرمین اکادمی پاکستان،1991ءسے 1993ءتک لوک ورثہ اور 1993ءسے 2006ءتک " نیشنل بک فاو¿نڈیشن " کے سربراہ رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی انٹرویو کی پاداش میں انہیں " نیشنل بک فاو¿نڈیش " کی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ احمد فراز نے 1966ءمیں " آدم جی ادبی ایوارڈ " اور 1990ءمیں " اباسین ایوارڈ " حاصل کیا۔ 1988ءمیں انہیں بھارت میں " فراق گورکھ پوری ایوارڈ " سے نوازا گیا۔ اکیڈمی آف اردو لٹریچر ( کینڈا ) نے بھی انہیں 1991ءمیں ایوارڈ دیا، جب کہ بھارت میں انہیں 1992ءمیں "ٹاٹا ایوارڈ " ملا۔ انہوں نے متعدد ممالک کے دورے کیے۔ ان کا کلام علی گڑھ یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے۔ جامعہ ملیہ بھارت میں ان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا گیا جس کا موضوع ”احمد فراز کی غزل “ ہے۔ بہاولپور میں بھی”احمد فراز فن اور شخصیت“کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا گیا۔ ان کی شاعری کے انگریزی ،فرانسیسی ،ہندی، یوگوسلاوی، روسی، جرمن اور پنجابی میں تراجم ہو چکے ہیں۔ احمد فراز جنہوں نے ایک زمانے میں فوج میں ملازمت کی کوشش کی تھی۔

2004ء میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دورِ صدارت میں انہیں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا لیکن دو برس بعد انھوں نے یہ تمغہ سرکاری پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے واپس کر دیا۔ احمد فراز نے کئی نظمیں لکھیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ان کی غزلیات کو بھی بہت شہرت ملی۔ اردو شاعری کا یہ گہوارہ ادب 25 اگست، 2008ءکو اس دار فانی سے کوچ کرگیا۔ مجموعہ کلام:تنہا تنہا،دردِ آشوب،شب خون، نایافت، میرے خواب ریزہ ریزہ،بے آواز گلی کوچوں میں،نابینا شہر میں آئینہ،پسِ اندازِ موسم،سب آوازیں میری ہیں،خوابِ گل پریشاں ہے،بودلک،غزل بہانہ کروں،جاناں جاناں،اے عشق جنوں پیشہ۔

نمونہ کلام

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

یہ خزینے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

غم دنیا بھی غمِ یار میں شامل کر لو

نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

تو خدا ہے نہ میرا عشق فرشتوں جیسا

دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر

کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

اب نہ وہ میں ہوں، نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فراز

جیسے دو سائے تمنا کے سرابوں میں ملیں