سیکرٹری لیبر و انسانی وسائل جناب  محمد عامر جان کی ہدایت پر لیبر قوانین کے کیلئے مختلف مارکیٹوں کا معائنہ

ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر لاہور نارتھ جناب ارشد محمود تارڑصاحب  نے اس ضمن میں دو ٹیمیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ز جناب طیب ورک اور جناب شاہد فرقان ڈوگر کی سربراہی میں تشکیل دیں۔ ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر لاہور نارتھ صاحب نے خود ٹیم کو لیڈ کیا اور مختلف مارکیٹوں کا لیبر قوانین کے نفاذ کے سلسلے میں معائنہ کیا

سیکرٹری لیبر و انسانی وسائل جناب  محمد عامر جان کی ہدایت پر لیبر قوانین کے کیلئے مختلف مارکیٹوں کا معائنہ

لاہور : سیکرٹری لیبر و انسانی وسائل جناب  محمد عامر جان صاحب  اور ڈائریکٹر جنرل لیبر ویلفیئر جناب فیصل نثارصاحب کی ہدایت پر پنجاب بھر میں لیبر قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے مختلف مارکیٹوں کا معائنہ کیا گیا۔ ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر لاہور نارتھ جناب ارشد محمود تارڑصاحب  نے اس ضمن میں دو ٹیمیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ز جناب طیب ورک اور جناب شاہد فرقان ڈوگر کی سربراہی میں تشکیل دیں۔ ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر لاہور نارتھ صاحب نے خود ٹیم کو لیڈ کیا اور مختلف مارکیٹوں کا لیبر قوانین کے نفاذ کے سلسلے میں معائنہ کیا۔

ٹیم میں طیب ورک، شاہد فرقان ڈوگر (اسسٹنٹ ڈائریکٹرز)،  کاشف علی، طاہر حمید اور بابر سہیل لیبر(آفیسرز)، حافظ سہیل یسین،رانامحمد عثمان، طاہر عدنان باجوہ  ا ور محمد عثمان( لیبر انسپکٹرز) شامل تھے۔ ٹیم نے  فوڈ سٹریٹ پرانی انار کلی میں مختلف ریسٹورنٹس جن میں یاسر بروسٹ،، پردیسی ریسٹورنٹس، انار کلی ریسٹوریٹ، نیو اسلام آباد ریسٹورنٹ، حاجی رحمت ریسٹورنٹ، کوئٹہ نمکین ہوٹل، سن رائز ہوٹل، پیرا ڈائیز تکہ اینڈ فیملی ریسٹورنٹ،  اور دی مال پر موجود گولڈن چکس اینڈ کیفے، کیفے اوسطیریہ، کیفے یوفوریا، وٹ اے پراٹھا، بشیر سنز نیلا گنبد روڈ پر واقع مختلف ٹائر شاپز جن  میں جے۔

راشد اینڈ کمپنی،  تھری ایم ٹریڈرز، خان آٹو سٹور، فائن ٹریڈرز، پاک پنجاب ٹائرز وغیرہ نیلا گنبد چوک نیو انار کلی  پر واقع گارمنٹس کی دکانیں جن میں فیشن ہاؤس، محل گارمنٹس، بہار ہاؤس، سنگھار ہاؤس،  ریاض الدین گارمنٹس، اسحاق ٹیلرز،  گلشن راوی میں واقع نیو بٹ سویٹس، لیوائزسٹور،بندو خان بیکرز، شرٹ اینڈ ٹائی، کلینکس میڈیکل سٹور، شیر پنجاب ریسٹورنٹ،دی مارٹ، نشاط، کیسریا اور سبزہ زار میں واقع گو پٹرول پمپ اور مالموبیکرز چیک کیے۔

جن اداروں  میں لیبر قوانین پر عمل نہ ہو رہا تھا انکے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی گئی۔ کم از کم اجرت کے قانون، رجسٹریشن نہ ہونے اور ریکارڈ نہ بنانے پر 369چا لان کر کے متعلقہ عدالت میں جمع کروائے گئے۔ عدالت قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائے گی۔ لیبر قوانین پر عمل نہ کرنے والے اداروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اور کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی۔کیونکہ غریب مز دور پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہے اور ان حالات میں مزدور کو پوری اجرت نہ دینا انکے ساتھ ناانصافی اور ظلم ہے۔