پاکستان افغان امن عمل میں ’سہولت کار‘ کا اپنا کردار جاری رکھے گا، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا چھٹے تھنک ٹینک فورم سے خطاب

پاکستان افغان امن عمل میں ’سہولت کار‘ کا اپنا کردار جاری رکھے گا، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا چھٹے تھنک ٹینک فورم سے خطاب

اسلام آباد :وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان افغان امن عمل میں ’سہولت کار‘ کا اپنا کردار جاری رکھے گا تاہم ہمارے کردار کو ضامن کے طورپر غلط انداز میں محمول نہ کیاجائے،ہم طالبان کے اعلانات کو مثبت وحوصلہ افزا سمجھتے ہیں،اجتماعیت کا حامل نظام طالبان کے لئے اہم ہے۔

جمعرات کو یہاں چھٹے تھنک ٹینک فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی اتحاد نے فوجی انداز فکر اپناتے ہوئے افغانستان میں امن کے حصول کی کوشش کی جو میری دانست میں زمینی حقائق پر مبنی نہیں تھا۔ فوجی حل پر اصرار کے نتیجے میں سیاسی عمل کی راہ میں رکاوٹیں حائل رہیں۔

دوہا امن معاہدہ افغانستان کے قائدین کے لئے ایک نئی امید لایا جبکہ بدقسمتی سے بین الافغان مذاکرات میں نہایت کم پیش رفت ہوئی۔ غیریقینی کی صورتحال میں مزید پیچیدگی 31 اگست 2021 کو افواج کے انخلاءکے اچانک امریکی اعلان سے پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ افغان سکیورٹی فورسز کی طرف سے مزاحمت کے فقدان اور طالبان کے کابل کے تیزی سے ٹیک اوور نے عالمی برادری کو حیران کردیا۔ بظاہر خانہ جنگی کا امکان ٹل گیا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ٹیک اوور کے بعد سے طالبان نے عام معافی، خواتین کے حقوق کے تحفظ، اظہاررائے کی آزادی، روزگار اور تعلیم کی فراہمی اور اجتماعیت کے حامل سیاسی نظام کے لئے کشادگی کے متعدد اعلانات کئے ہیں۔طالبان مستقبل کے سیاسی نظام سے متعلق افغان رہنماوں سے بات چیت کررہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان واحد ملک تھا جس نے ہمیشہ یہی کہا کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں۔انہوں نے کہا کہ جانی نقصانات اور معیشت دونوں لحاظ سے افغانستان کے بعد سب سے زیادہ ہم متاثر ہوئے ہیں۔

افغانستان میں امن واستحکام میں پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک کا مفاد نہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہم افغانستان میں اجتماعیت کے حامل نظام کے لئے حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہی آگے بڑھنے کا واحد بہتر راستہ ہے۔

ہم طالبان کے اعلانات کو مثبت وحوصلہ افزا سمجھتے ہیں۔ افغان قیادت کو افغان عوام کے مطالبات کو پورا کرنے، اختلافات کو مفاہمت میں ڈھالنے اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیہ کے حصول کے دیرینہ ہدف کی ذمہ داری کو قبول کرنا چاہیے۔اس سے علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔’

جیو اکنامکس‘ پر ہماری ازسرنو مرکوز کردہ توجہ کے پیش نظر ہم محسوس کرتے ہیں کہ ’خطے‘ کے جُڑنے کے ثمرات اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتے جب تک افغانستان میں پائیدار امن قائم نہیں ہوتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت سب سے بڑا موقع افغانستان میں پائیدار امن واستحکام کے لئے یکجا ہونے کی صورت میں موجود ہے