کسی کو انتشار، خلفشار پیدا کرنے اور ملک کے امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی اسلا مآباد میں تھانہ نون کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو

کسی کو انتشار، خلفشار پیدا کرنے اور ملک کے امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی اسلا مآباد میں تھانہ نون کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد :وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے واضح کیا ہے کہ کسی کو انتشار، خلفشار پیدا کرنے اور ملک کے امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، ایسا وقت آرہا ہے کہ اپوزیشن کو حکومت سے بات چیت کرنا پڑے گی، یہ لانگ مارچ کا نہیں، مل بیٹھ کر ملک کو آگے لے جانے کا وقت ہے، کوئی امریکی فوجی پاکستان میں نہیں، جو بھی سپانسر ملک کے ذریعے افغانستان سے آنا چاہتا ہے اسے 21 دن کا ویزا دیا جائیگا لیکن اپنے خرچ پر ہوٹل میں ٹھہرنا ہوگا،

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں آئ 16 میں تھانہ نون کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، وزیر داخلہ نے حریت پسند رہنما سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی نے ساری زندگی حق و صداقت کا علم بلند کیا، کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، ساری زندگی کشمیر کی آزادی کیلئے جدوجہد کی،

انکی تدفین کے موقع پر بھارت نے عوام کو روکنے کیلئے کرفیو کی صورت حال پیدا کی، سید علی گیلانی ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گے، انکی وفات پر سوگ میں پاکستانی پرچم سرنگوں ہے، ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ کچھ خطرات پر چمن بارڈر کو ممکن ہے کچھ وقت کیلئے بند کرنا پڑے، پاکستان کی عظیم افواج سرحدوں پر پوری طرح چوکس اور مستعد ہیں، افغانستان سے ملحقہ 2686 کلومیٹر سرحد پر باڑ نصب ہے، ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں اور افغانستان میں امن سے پاکستان کا امن وابستہ ہے،

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور اپوزیشن کے رہنماؤں کے بیانات کا کوئی سر پیر نہیں ہے، ایک کچھ کہہ رہا ہے دوسرا کچھ، ایک کہہ رہا ہے قومی حکومت بنائی جائے ۓ، دوسرا کہہ رہا ہے حکومت سے بات نہیں کرنی، ایسا وقت آرہا ہے کہ اپوزیشن کو حکومت سے بات کرنا پڑے گی، لانگ مارچ کا وقت نہیں ہے، یہ ملک کو مل بیٹھ کر آگے لے جانے کا وقت ہے، 15 اگست کے بعد اہم دن شروع ہوچکے ہیں، کسی کو انتشار، خلفشار اور ملک کے امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاۓ ئے گی،

قوم نے ایک ہوکر صورت حال کا مقابلہ کرنا ہے، ملک لانگ مارچوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، پاکستان کا بہت اہم کردار ہے اور یہ وقت قوم اور ملک کی یکجتی اور اتحاد کے مظاہرے کا ہے، پھر بھی اپوزیشن نے مارچ کرنا ہے تو بے شک کرے، انہوں نے کہا کہ قومی حکومت اور قومی مفاہمت دو الگ چیزیں ہیں، ہم مفاہمت کیلئے تیار ہیں، بات چیت کیلئے حکومت کے دروازے کھلے ہیں،

لیکن قومی حکومت ایک خواب ہے جسکی کوئی تعبیر نہیں، وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت میں صف ماتم بچھی ہے، را اور این ڈی ایس کے خواب چکنا چور ہو گئےۓ، انکی سرمایہ کاری ڈوب گئی ، انکا ستیاناس ہوگیا، انکے منہ لٹکے ہوۓ ئے ہیں، ہم افغانستان کے کسی معاملے میں ملوث نہیں ہیں، قوم کو آئی ایس آئی اور اپنے اداروں پر فخر ہے، انہوں نے ملک کی خدمت کی ہے، انتھک محنت کی ہے

، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی امریکی فوجی موجود نہیں ہے، جو آئے ۓ تھے وہ چلے گئے ، ہم نے افغانستان سے انخلا کے لیے سہولت فراہم کی ہے، جاپان کے سپانسر 600 افراد کو بھی اجازت دی ہے، افغان انڈر 19 ٹیم اور جرمنی کے سپانسرز کو بھی اجازت دی ہے، جو بھی پاکستان آنا چاہے اسے 21 دن کا ویزا دیں گے، لیکن وہ اپنے خرچ پر ہوٹل میں قیام کریں