کورونا کی طرح ماحولیاتی آلودگی بھی انسانی صحت کے لیے زہر قاتل ہے۔ کورونا اپنے تیز رفتار پھیلاؤ کی وجہ سے خوف کی علامت  بنا ہوا ہے

ہوا میں مضر صحت عناصر کی بڑھتی ہوئی مقدار انسانوں میں بتدریج جان لیوا بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔ دونوں آفات سے تحفظ کے لیے طرز زندگی میں تبدیلی ہی سب سے موثر ہتھیار ہے۔ شہری ماسک کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ ہجوم میں جانے سے گریز کریں

 کورونا کی طرح ماحولیاتی آلودگی بھی انسانی صحت کے لیے زہر قاتل ہے۔ کورونا اپنے تیز رفتار پھیلاؤ کی وجہ سے خوف کی علامت  بنا ہوا ہے

لاہور:  ریلیف کمشنر پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بابر حیات تارڈ نے کہا ہے کہ کورونا کی طرح ماحولیاتی آلودگی بھی انسانی صحت کے لیے زہر قاتل ہے۔ کورونا اپنے تیز رفتار پھیلاؤ کی وجہ سے خوف کی علامت  بنا ہوا ہے۔ ہوا میں مضر صحت عناصر کی بڑھتی ہوئی مقدار انسانوں میں بتدریج جان لیوا بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔ دونوں آفات سے تحفظ کے لیے طرز زندگی میں تبدیلی ہی سب سے موثر ہتھیار ہے۔ شہری ماسک کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ ہجوم میں جانے سے گریز کریں۔

سماجی روابط بحال رکھیں مگر مناسب فاصلے کے ساتھ۔سادہ اورصحت بخش خوراک استعمال کریں۔ روز مرہ معمولات میں دھواں چھوڑنے والی سواریوں کے کم سے کم استعمال کو یقینی بنائیں۔سڑکوں پر ٹریفک میں کمی کے لیے الگ الگ سواریوں پر سفر کی بجائے ایک گاڑی میں سفر کرنے کی عادت اپنائیں۔ آلودگی کے خاتمے کے لیے سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔   ان خیالات کا اظہارریلیف کمشنر نے پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تحت کورونا اور سموگ سے متعلق آگاہی مہمات اور سموگ کی روک تھام کے لیے فضائی آلودگی پر کنٹرول کے حوالے سے کاروائیوں کے جائزہ اجلاس کے دوران کیا۔ ریلیف کمشنر پنجاب نے پی ڈی ایم اے کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ کورونا کے ساتھ سموگ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے  فضائی آلودگی پر کنٹرول کی کاروائیوں کی نگرانی بلا تعطل جاری رکھیں۔

ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ریلیف کمشنر کو بتایا کہ پی ڈی ایم اے سموگ پر کنٹرول کی کاروائیوں کی مسلسل نگرانی کے سا تھ احساس کفالت پروگرام کے تحت کورونا متاثرین میں وظائف کی باقاعدگی سے تقسیم کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔ احساس کفالت پروگرام کے تحت اب تک پنجاب  میں کورونا متاثرین میں  1.785ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔صوبے میں پروگرام سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 147,353تک پہنچ چکی ہے سموگ پر کنٹرول کے لیے اب تک کی کاروائیوں کے دوران دھواں چھوڑنے والی 10ہزار 539 گاڑیاں،2ہزار504صنعتی یونٹ اور 1,608بھٹے بند کیے جا چکے ہیں۔

بندش کے خاتمے کے لیے بھٹوں کی جلد از جلد جدید ٹیکنالوجی پر منتقلی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔پچھلے24گھنٹوں میں 60بھٹے جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کروائے گئے ہیں۔پورے پنجاب میں 7530بھٹوں میں سے اب تک 1837بھٹے زیگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہو چکے ہیں۔  20اکتوبر سے اب تک فضائی آلودگی پر کنٹرول کی کاروائیوں میں مجموعی طور پر 49,997,000  روپے کے جرمانے کے جا چکے ہیں۔ متعلقہ محکموں میں انسداد سموگ کمیٹی اور تیکنیکی گروپ کی سفارشات پر عمل درآمد جاری کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔اتھارٹی اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے رہی ہے۔