مدیران رسائل و جرائد کیلئے تین روزہ تربیتی ورکشاپ مکمل

نفرت پر مبنی تحریر کو روکنے اور پر امن بیانیوں کے فروغ پر اتفاق صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹین کی اختتامی سیشن میں خصوصی شرکت نفرت پر مبنی تحریر و تقریر تنازعات و فسادات کا ذریعہ ہے:اعجاز عالم آگسٹین

مدیران رسائل و جرائد کیلئے تین روزہ تربیتی ورکشاپ مکمل

لاہور: لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور اور USIP کے اشتراک سے پنجاب کے مدیران دینی رسائل و جرائد کیلئے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا،جس کے اختتامی سیشن میں صوبائی وزیر انسانی حقوق واقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ تین روزہ ورکشاپ میں کل مسالک علما بورڈ کے سربراہ مولانا محمد عاصم مخدوم نے سماجی سطح پر مسلکی ہم آہنگی کیلئے اتحاد قائم کرنے جبکہ علامہ تحمید جان ازہری نے نوجوانوں سے پر امن بیانیوں کے فروغ پر زور دیا۔علامہ ساجد حمید نے جدید دور کے اصول تحقیق اور تقاضوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تحقیقی مزاج پیدا نہیں ہوگا اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے۔

ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے صوبائی وزیر مذہبی امور اعجاز عالم آگسٹین نے خطاب کرتے ہوئے کہا، کہ مذہبی رواداری اور برداشت کیلئے انٹرنیشنل ریسرچ کونسل اور اسرار مدنی کے خدمات قابل تحسین ہیں جبکہ ایسی مجالس سے باہمی مکالمے کا موقع ملتا ہے، نفرتوں میں کمی آتی ہے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔صوبائی وزیر اقلیتی امور نے نوجوان اہل قلم سے اپیل کی کہ وہ دنیا بھر میں پاکستان کا پرامن اور روشن چہرہ پیش کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں۔ ورکشاپ سے انٹرنیشنل ریسرچ کونسل کے سربراہ اسرار مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر ہماری صحافت تقسیم در تقسیم کا شکار ہے، ماضی کے مقابلے میں اخبارات کے اداریہ نویسی پر اداروں کی پالیسی جبکہ مذہبی رسائل پر مسلکی شناخت اور فکر غالب ہوتی جارہی ہے،جس سے رسائل و جرائد اپنی افادیت اور سماج میں اثر کو مسلسل کھو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ پیغام پاکستان فتوے کی روشنی میں تمام مکاتب فکر کے اکابر نے یہ طے کیا ہے کہ نفرت پر مبنی تقریر و تحریر غیر شرعی اور غیر قانونی ہے لہذا ہمیں ان اعلامیہ کو سوسائٹی کے نچلی سطح تک لیجانا ہوگا اور منبر و محراب سمیت اہل قلم کو کردار ادا کرنا ہوگا۔علامہ جواد نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تعلیمی نظام میں منطقی انداز فکر اور تنقیدی سوچ نہ ہونے کیوجہ سے جذباتیت پروان چڑھ رہی ہے، جوکہ معاشرے کیلئے انتہائی بھیانک ہے، علامہ جواد نقوی نے نوجوان اہل قلم سے اپیل کی وہ دلیل کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کریں اور معاشرے میں سماجی و معاشرتی تنوع کی اہمیت اجاگر کرکے مسلکی ارتباط قائم کرنے میں کردار ادا کریں۔

انہوں نے شیعہ سنی کشمکش کو کم کرنے اور باہمی مکالمے اور پر امن بیانیوں کے فروغ پر بھی بات کی۔ ورکشاپ سے صاحبزادہ امانت رسول مدیر اعلی فکرجدید نے رسائل و جرائد کی اہمیت اور معاشرے اس کی مثبت کرداراور دینی رسائل کا مذہبی آہنگی اور برداشت میں کردار ادا کرنے پر بات کی جبکہ ریسرچ سوسائٹی فار انٹرنیشنل لا کے مبشر رضوی نے بین الاقوامی اور ملکی قوانین کی تناظر میں اظہار آزادی رائے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نفرت پر مبنی تقریر خلاف قانون ہے، چاہے وہ مغربی ممالک میں ہو یا ہمارے ہاں۔