جلالپور کینال پراجیکٹ پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور یہ 2024 تک مکمل ہو گا:محسن خان لغاری

اس منصوبے سے جہلم اور خوشاب کے 80 دیہات کے 4 لاکھ لوگ مستفیض ہونگے: صوبائی وزیر آبپاشی

جلالپور کینال پراجیکٹ پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور یہ 2024 تک مکمل ہو گا:محسن خان لغاری

لاہو : صوبائی وزیر آبپاشی محسن خان لغاری نے کہا ہے کہ جلال پور کینال پراجیکٹ پرکام تیزی سے جاری ہے اور نہری منصوبے کے تحت زمین کے حصول کا عمل تقریباً 35فیصد مکمل کر لیا گیا ہے۔منصوبہ کے تحت پہلے پیکچ میں آرڈی زیرو سے آرڈی تینتیس تک کام تیزی سے جاری ہے۔یہ بات وزیر آبپاشی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ وزیر آبپاشی محسن خان لغاری نے کہا کہ جلالپور کینال کی تعمیر کے تمام مراحل کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کیا جا رہا ہے۔یہ منصوبہ موجودہ حکومت کی طرف سے شروع کیا جانے والا عوامی فلاح و بہبود کا ایک میگا پراجیکٹ ہے جو کہ 2024میں پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔

اس منصوبے کی تکمیل سے جہلم اور خوشاب کے اضلاع میں خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ صوبائی وزیر آبپاشی نے بتایا کہ یہ پروجیکٹ آج سے 125 سال پہلے پوٹھوہار ریجن کے عوام کے لیے سوچا گیا تھا لیکن اتنی مدت گزرنے کے بعد بھی کوئی حکومت اس پروجیکٹ پر کام شروع نہ کر سکی لیکن اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دریائے جہلم پر رسول بیراج کے مقام سے نکلنے والی اس مین کینال کی کل لمبائی 115.6 کلو میٹر ہو گی جبکہ اس سے ملحقہ چھوٹی نہروں کی مجموعی لمبائی تقریباً 210کلومیٹر ہو گی جن پر تقریباً5 48واٹر کورسز بھی تعمیر کئے جائیں گے۔

اس منصوبے کی تکمیل سے جہلم اور خوشاب کے تقریباً 80 دیہات کے 4 لاکھ افراد مستفید ہوں گے اس کے علاوہ یہ پروجیکٹ آس پاس کے دیہات  کے لوگوں کو 40 کیوسک فیٹ صاف پینے کا پانی فراہم کرے گاوزیر آبپاشی نے مزید کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی حکومت پنجاب کی خصوصی ترجیحات میں شامل ہے اوریہ بات قابل ذکر ہے کہ پوٹھورہار کے اس ذرخیز خطہ میں اس سے پہلے کوئی نہری نظام موجود نہیں تھا۔اس لئے یہ کہنا بجا نہ ہو گا کہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد اور جداگانہ منصوبہ ہو گاجو اس خطے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔