غربت ہی مسائل کے اضافے کا سبب

اس عالمِ رنگ و بو میں ویسے توخلقِ خدا کو کئی مسائل کا سامنا ہے، مگران میں”غربت“ سرِ فہرست ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ غربت ہی تمام مسائل کی بنیاد ہے، تو بے جا نہ ہوگا، کیوں کہ زیادہ تر اسی کی وجہ سے بدامنی، چوری، رہزنی اور قتل و غارت گری وغیرہ کے واقعات پیش آتے ہیں

غربت ہی مسائل کے اضافے کا سبب

اس عالمِ رنگ و بو میں ویسے توخلقِ خدا کو کئی مسائل کا سامنا ہے، مگران میں” غربت“ سرِ فہرست ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ غربت ہی تمام مسائل کی بنیاد ہے، تو بے جا نہ ہوگا، کیوں کہ زیادہ تر اسی کی وجہ سے بدامنی، چوری، رہزنی اور قتل و غارت گری وغیرہ کے واقعات پیش آتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ جن ممالک میں غربت کم ہے، ان کا شمار پر امن ممالک میں ہوتا ہے جب کہ بد قسمتی سے وطنِ عزیز کا شمار ایسے ممالک میں ہے، جہاںمہنگائی اور غربت میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے ا ور کوئی بعید نہیں کہ مستقبل میں یہ حالات بد امنی، چوری چکاری اور اغوا برائے تاوا ن جیسے واقعات میں مزیداضافے کا سبب بن جائیں۔

یہ افلاس ہی ہے، جس نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کر رکھی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی 20فی صد آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے، جس کی یومیہ آمدنی 235روپے سے بھی کم ہے۔ذرا سوچیے! آج کے اس ہوش ربامہنگائی کے دَور میں جہاںآٹے، دال، چاول کی قیمتیںآسمان سے باتیں کر رہی ہیں، وہاں یومیہ سو، دو سو روپے کمانے والے افراد اپنے بال بچّوں کا پیٹ کیسے

پالتے ہوں گے۔

حیرت انگیز بات ہے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس ممالک میں ہوتا ہے، جہاں لوگ سب سے زیادہ چیریٹی کرتے ہیں،بڑی تعداد میں رفاہی ادارے بھی کام کررہے ہیں، لیکن اس کے باوجود غربت و افلاس میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا چلاجا رہا ہے؟غالباًاس کی بنیادی وجہ ان اداروں کا غیر منظّم طریقے سے کام کرنا ہے۔موجودہ حکومت بظاہر فلاحی ریاست جیسے ایک بڑے ہی سادہ تصور پر یقین رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ببانگِ دہل انداز میں دیا گیا ’تبدیلی‘ کا نعرہ بھی عوام کے دل کو خوش رکھنے کا خیال سا نظرآتا ہے کہ جس میں حکومت وقتاً فوقتاً کبھی مذہبی بیانیے تو کبھی یوٹوپیائی اصولوں اور خیالات کا رنگ بھی گھولتی رہتی ہے۔

حکومت کی متعارف کردہ احساس سیلانی لنگر اسکیم ایک بار پھر ’تبدیلی‘ دکھانے کے لیے اٹھائے گئے کسی ’بڑے‘ اقدام کی نمائش کے حکومتی شوق کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان نے

ریاست مدینہ سے متعلق ان کے وژن پر لوگوں کی تنقید پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’محض چند سال میں اتنی بڑی تبدیلی نہیں آسکتی ہے۔‘اس تنقید یا غربت کے خاتمے کے حوالے سے ان کی سوچ پر ہونے والی مخالفت سے متعلق وزیرِاعظم کے شکوے میں کوئی نئی بات شامل نہیں ہے۔

متعدد ترقی پذیر ممالک بالخصوص پاکستان غربت کے خاتمے سے متعلق مختلف منصوبوں کے گرداب میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔لنگر، یا مفت دسترخوان اسکیم کو متعارف کیے جانے کے ایک ہفتے بعد ہی بھارتی نژاد امریکی ماہرِ معاشیات ابھجےت، فرانس میں پیدا ہونے والی ان کی اہلیہ ایستھر ڈفلو اور ماہرِ معاشیات مائیکل کریمر کو عالمی غربت مٹانے کے لیے تجرباتی تحقیق کرنے پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔ماہرین نے 18 ممالک کا تحقیقی دورہ کیا جہاں انہوں نے غربا ءکے ساتھ وقت گزارا۔ تحقیق میں یہ پایا گیا کہ ترقی پذیر ممالک میں ناکامیوں کی وجہ غربت یا تاریخ کے ناخوشگوار واقعات نہیں بلکہ ان ملکوں کو جہالت، نظریے اور جمود سے لڑنے کی ضرورت ہے۔وزیرِاعظم اور ان کے اقتصادی ماہرین کو یہ تحقیقاتی کام کو لازمی دےکھنا چاہیے۔

اس تحقیقی کام کے ذریعے انہیں یہ بات سمجھنے میں مدد ملے گی کہ غربا ءکو کھانا کھلانے یا پیسے دینے سے غربت جیسی لعنت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ علامہ اقبال نے 1904ءمیں معاشیات کے موضوع پر لکھی جانے والی ایک کتاب کا ابتدائیہ تحریر کیا تھا۔ اس ابتدائیے میں علامہ اقبال نے معاشیات سے متعلق مسلمانوں کی آرا ءکا دلچسپ جائزہ لیا جو آج بھی کسی حد تک پاکستان کے تناظر میں ٹھیک بیٹھتا ہے۔

یہ وہ وقت تھا جب عام خیال یہ تھا کہ دولت کا علم قوموں کو لالچی بنادیتا ہے، مگر اقبال نے اس خیال کو چیلنج کیا اور کہا کہ دولت کا علم قوموں کو لالچی نہیں بناتا بلکہ اس کا مقصد تو جنگ کے حوالے سے اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے امن اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کرنا ہے۔ ابتدائیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ برِصغیر کے مسلمانوں کے لیے سائنس اور معاشیات جیسے مضامین علم و شعور پر زیادہ توجہ کے حامل ہی نہیں رہے تھے۔ معیشت سے متعلق سوچ و فکر کا منظم عمل موجود نہ ہونے کے باعث پاکستان آج بھی لنگر کھولنے جیسے قرونِ وسطیٰ کے خیالات کا سہارا لیے ہوئے ہے، یہ خیالات اس قدر سادہ نوعیت کے ہیں کہ ان سے بمشکل ہی کوئی سماجی تبدیلی رونما ہوگی۔

بھوک کے شکار ممالک کی عالمی درجہ بندی میںکل 117 ملکوں میں سے پاکستان 94 نمبر پر آیا ہے اور ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس ملک کو ’سنگین‘ سطح پر بھوک جےسے مسائل کا سامنا ہے۔ غربت سے متعلق حالیہ اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی 24 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا بڑا چیلنج ہے جس کا مقابلہ ایک جامع اور منظم پروگرام کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔ چینی غربت مٹاو پروگرام، جس سے ہمارے وزیرِاعظم خاصے متاثر نظرآتے ہیں، وہ چین کی مجموعی ترقیاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ڈی باو پروگرام کی زیادہ تر توجہ کم کرائے کی حامل رہائش، صحت اصلاحات، تعلیمی ایمرجنسی اور قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے خاندانوں کی عبوری معاونت پر مرکوز ہوتی ہے۔ تاہم دیہی علاقوں میں صورتحال کی بہتری کے لیے اس پروگرام میں شامل اقدامات میں سے ایک ذریعہ آمدنی نہ رکھنے والے لوگوں کے لیے کھانے کی فراہمی میں مشروط معاونت بھی ہے۔لوگوں سے حکومتی منصوبوں پر کام کا تقاضا کیا جاتا ہے جس کے بدلے میں انہیں آمدن کے ساتھ ساتھ کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف 2018ءمیں پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں غربت کو ایک اہم سیاسی مسئلے کے طور پر اٹھایا ہی نہیں گیا تھا بلکہ حکمران جماعت کی توجہ کرپشن کے خاتمے پر ہی مرکوز رہی۔ اس موضوع سے عوامی حمایت تو حاصل ہوتی ہے لیکن ترقی پذیر ممالک کے لیے کرپشن روکنے کے لیے ایسی منظم تبدیلیوں اور اقدامات کو حقیقت کا روپ دینا کھڑی چٹان چڑھنے کے برابر ہے۔ کرپشن مخالف نعرے زیادہ عرصے تک پائیدار سیاسی حمایت کے حصول میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتے۔کارکردگی دکھانے کے لیے بڑھتے دباو کو ہلکا اور حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے حکومتیں لنگر کھولنے اور سستی روٹی کی فراہمی جیسے مقبولِ عام اقدامات کا سہارا لینا شروع کردیتی ہیں لیکن ان سے 20 کروڑ کی آبادی والے ملک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔نوبل انعام جیتنے والوں کے پاس پاکستان اور بھارت جیسے ملکوں کے لیے ایک اچھی تجویز موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ، اگر یہ ممالک حقیقتاً بھوک مٹانا چاہتے ہیں تو انہیں جہالت، نظریے اور جمود سے لڑنا ہوگا۔