ماحولیات کی بہتری آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ضروری ہے، عالمی حدت سے بچائو اور اپنا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے 10 ارب درخت لگانے کا ہدف پوراکرنا ہے، وزیر اعظم عمران خان

ماحولیات کی بہتری آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ضروری ہے، عالمی حدت سے بچائو اور اپنا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے 10 ارب درخت لگانے کا ہدف پوراکرنا ہے، وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماحولیات کی بہتری آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ضروری ہے، عالمی حدت سے بچائو اور اپنا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے 10 ارب درخت لگانے کا ہدف پوراکرنا اور قومی پارکس میں اضافے کی ضرورت ہے، چین نے ماحولیاتی تبدیلی پر بہت کام کیا ہے ، اس نے ایک گرین سٹی بنایا ہے ، ہم اس کی مہارت سے تجربہ حاصل کرسکتے ہیں، درخت لگانے کے حوالے سے آگاہی خوش آئند ہے۔ وہ جمعرات کو یہاں ملک میں گرین فنانس میں جدت کے حوالے منعقدہ تقریب سےخطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر وزیر اعظم کےمعاون خصوصی برائے ماحولیات ملک امین اسلم نے بھی خطاب کیا جبکہ بلیو کاربن پر ورلڈ بینک کی سٹڈی بھی پیش کی گئی۔ اس موقع پر چین کے ساتھ پاکستان میں گرین ایکالوجیکل زون کے منصوبےپر دستخط بھی کئے گئے۔ اس موقع پر برطانیہ ، جرمنی اور کینیڈا کے ساتھ پاکستان پہلے نیچر بانڈ کے لئے بات چیت کے آغاز کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کئے گئے۔ یہ تقریب ماحولیات کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقد کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے کے منفی اثرات سے بچائو اور جنگلات کو وسعت دینا اپنی آنے والی نسل کےلئے ضروری ہے۔ 10 ارب درخت پاکستان کی ضرورت ہے اور حکومت کا 2023 تک ہدف ہے۔

ہم نے اپنے مستقبل کو محفوط بنانا ہے۔ عالمی حدت سے بچائو کے لئے قومی پارکس میں اضافے ، شجر کاری ، اربن فاریسٹری کی ضرورت ہے۔ صحرا ئوں کو سر سبز بنانے کے چین کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بہت سے ملک آگے نکل گئے ہیں ۔چین نے اس سلسلہ میں بہت سے کام کیا ہے۔ انہوں نے ماحولیات دوست گرین سٹی بنایا ہے۔ ہم چین سے نئی تکنیک سیکھ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر نہیں کی گئی ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم نعمتوں کی قدر کریں۔ پاکستان میں گزشتہ 20 سال کے دوران مینگرووز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ 60 سے 70 سالوں میں پاکستان میں جنگلات تباہ ہوئے۔ 2013 میں ہماری خیبر پختونخوا حکومت نے ایک ارب درخت لگانے کا کام شروع کیا اور اس کی تکمیل کی۔ وزیرا عظم نے کہا کہ شجر کاری کے حوالے سےاب آگاہی آ گئی ہے ۔سکول کے بچوں میں اس حوالے سے آگاہی خوش آئند ہے۔ اپنی آنے والی نسلوں کی زندگی بہتر بنانے کے لئے نیچربانڈ کا اجرا اچھا تصور ہے تاہم جس تیزی دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں 10 سال میں شجر کاری کے حوالے آگاہی آنا خوش آئند ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے قصور ہمارا نہیں لیکن نقصان ہمارا ہو رہا ہے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جوبائیڈن انتطامیہ نے اب اس بارے میں سوچا جو اچھی بات ہے ۔ گزشتہ انتظامیہ نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قائدانہ کردار ادا کرے گا ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے 15 سو سال پہلے یہ تصور دیا کہ آپ اگلی دنیا کے لئے اس طرح جیو کہ آپ نے کل مر جانا ہے لیکن اس دنیا کے لئے ا س طرح جیو کہ آپ نے ہزا رسال زندہ رہنا ہے۔ یہ عظیم سوچ تھی۔ بدقسمتی سے ہم نے اس طرح نہیں سوچا ۔ 20 سال پہلے عالمی حدت پر بات کرنے پر لوگ ہنستے تھے ۔ بڑے ممالک اس سلسلہ میں سنجیدہ نہیں تھے تاہم کیلیفورنیاا ورآسٹریلیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے لگنے والی آگ سے اب یہ سوچ پروان چڑھی ہے کہ دنیا نے قدرتی نعمتوں سے انصاف نہیں کیا۔ اب بل گیٹس بھی اس پر بات کر رہے ہیں