مئی ہ میں صارفین کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریہ میں کمی مہنگائی کے دبائومیں کمی کا واضح اشارہ ہے،ترجمان وزارت خزانہ

مئی ہ میں صارفین کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریہ میں کمی مہنگائی کے دبائومیں کمی کا واضح اشارہ ہے،ترجمان وزارت خزانہ

اسلام آباد :وفاقی وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہاہے کہ حالیہ ڈیٹا کے اجرا سے مہنگائی کے منظرنامہ میں بہت بہتری آئی ہے اور مہنگائی کے دبائومیں کمی کے واضح اشارات موجود ہیں ۔اچھی فصلوں، سپلائی کی بہترصورتحال اورمنڈیوں میں قیمتوں کی موثرنگرانی کے نتیجہ میں افراط زرکے دبائو میں مزیدکمی آئے گی۔

وزارت خزانہ کے ترجمان نے بدھ کویہاں جاری بیان میں کہاہے کہ جمعہ کوقیمتوں کے حساس اشاریہ (ایس پی آئی) اورگزشتہ پیرکوصارفین کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریہ (سی پی آئی ) سے متعلق ڈیٹا کے اجرا سے مہنگائی کے منظرنامہ میں بہت بہتری آئی ہے، مئی کے مہینہ میں صارفین کیلئے قیمتوں کا حساس اشاریہ (سی پی آئی ) 10.9 فیصد ریکارڈکیاگیا جو ایک ماہ قبل 11.2 فیصدتھا۔ یہ مہنگائی کے دبائومیں کمی کا واضح اشارہ ہے۔ترجمان نے بتایا کہ مزیددوپیش رفت سے اس دعوی کی مزید تائیدہورہی ہے، پہلے یہ کہ ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 0.1 فیصد گرگئی جو اپریل میں ایک فیصدتھی۔دوسرا یہ کہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں اوسط افراط زرکی شرح 8.8 فیصد تک گرگئی جو قبل ازیں دوہندسی 10.9 فیصد تھی۔

ترجمان نے بتایا کہ یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ اشیائے خوراک کی مہنگائی میں بھی کمی آرہی ہے، شہری علاقوں میں اشیائے خوراک کی افراط زرجو اپریل میں 2.7 فیصد تھی، مئی میں کم ہوکر1.1 فیصد تک گرگئی ہے۔اسی طرح دیہی علاقوں میں اشیائے خوراک کی افراط زرجو اپریل میں 14.1 فیصدتھی، مئی میں کم ہوکر12.8 فیصد ہوگئی۔اسی طرح کے رحجانات بنیادی افراط زرمیں بھی دیکھنے میں آرہے ہیں۔ شہری اوردیہی علاقوں میں بنیادی افراط زر کی شرح بالترتیب 7 فیصد سے کم ہوکر6.8 فیصد اور7.7 فیصدسے کم ہوکر7.6 فیصد ہوگئی ہے۔

اچھی فصلوں، سپلائی کی بہترصورتحال اورمنڈیوں میں قیمتوں کی موثرنگرانی کے نتیجہ میں افراط زرکے دبائو میں مزیدکمی آئے گی۔ترجمان نے بتایا کہ صارفین کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریہ (ایس پی آئی ) میں گزشتہ ہفتہ کے مقابلہ میں 0.63 فیصد کی کمی ریکارڈکی گئی ہے، اسی طرح سالانہ بنیادوں پرقیمتوں کا حساس اشاریہ (ایس پی آئی ) 17.23 فیصدسے گرکر16.34 فیصد ہوگیاہے۔اعدادوشمارکے مطابق ہفتہ میں 10 اشیا کی قیمتوں میں کمی اور29 کی قیمتوں میں استحکام دیکھنے میں آیا ہے، 12 اشیاکی قیمتوں میں اضافہ ہواہے۔ٹماٹر، آلو، گھی وغیرہ جیسی ضروری اشیا کی قیمتوں میں گزشتہ چھ ہفتے سے یاتوکمی آرہی ہے اوریا ان کی قیمتیں مستحکم ہیں تاہم سب سے زیادہ چکن اورانڈوں کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ترجمان نے کہاکہ حالیہ عرصہ میں قیمتوں کے حساس اشاریہ میں جن عوامل نے حصہ ڈالا ہے اب اس میں کمی کارحجان دیکھنے میں آرہاہے۔یہ تمام نتائج مارکیٹوں کی باقاعدگی سے نگرانی اورصوبائی انتظامیہ اورحکام سے مربوط رابطہ کاری کے باعث حاصل ہوئے ہیں۔ خاص طورپرمسابقتی کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کارٹیلائزیشن کے اثرات کو زائل کرنے کے حوالہ سے اقدامات کئے گئے، اسی طرح صوبائی انتظامیہ کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اورناجائز منافع خوری پرایکشن لیاگیا۔ترجمان نے کہاکہ ان کوششوں کے نتیجہ میں چکن ، جس کی قیمت ایک موقع پر500 روپے فی کلوہوگئی تھی، اب کافی حدتک کم ہوگئی ہے اگرچہ اس میں مزید کمی کی گنجائش اب بھی موجودہے.