پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سموگ پر کنٹرول کے حوالے سے تمام سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے

 محکمہ زراعت، صنعت، ٹرانسپورٹ، لوکل گورنمنٹ اور ماحولیات کی تمام کاروائیوں کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کیا جا رہا ہے سڑکوں پر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی بندش کے لیے کاروائیاں تیز کر دی گئیں ہیں

 پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سموگ پر کنٹرول کے حوالے سے تمام سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے

لاہور: پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سموگ پر کنٹرول کے حوالے سے تمام سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے  محکمہ زراعت، صنعت، ٹرانسپورٹ، لوکل گورنمنٹ اور ماحولیات کی تمام کاروائیوں کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ سڑکوں پر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی بندش کے لیے کاروائیاں تیز کر دی گئیں ہیں۔ دیہی علاقوں میں بنائی گئی کسان کمیٹیاں فصلوں کے باقیات کی تلفی کے لیے آتشزدگی پر کنٹرول کے لیے مقامی سطح پر خدمات سرانجام دی رہی ہیں۔ محکمہ  صنعت دھواں پیدا کرنے والے کارخانوں اور بھٹوں کے خلاف کاروائیوں کو یقینی بنا رہا ہے۔

فضا میں سموگ کے تناسب میں اضافے کے ساتھ مزید سخت اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔ سموگ کی تناسب کو معلوم کرنے کے لیے اتھارٹی کے تحت  پورا میکانزم متحرک کیا جا چکا ہے۔ان خیالات کا اظہار ریلیف کمشنر پنجاب بابر حیات تارڈ نے آج پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تحت سموگ پر کنٹرول کے لیے اب تک کی کاروائیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کیا۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ریلیف کمشنر کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 20اکتوبر سے 31اکتوبر تک سموگ کے اسباب پر کنٹرول کے لیے ایک کڑوڑ 17 لاکھ 9سو  روپے کے جرمانے کیے گئے، 2841ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ 23,275گاڑیوں کے چالان کئے گئے،3706گاڑیاں بند کی گئیں جبکہ 204صنعتی یونٹ سیل کئے گئے۔ سموگ کے تناسب کے اعتبار سے لاہور میں آلودگی کی شرح سب سے زیادہ رہی۔

اکتوبر کے اختتام تک لاہور کی فضا میں سموگ کا زیادہ سے زیادہ تناسب 414تھا جبکہ آج صبح میں یہ شرح 281ریکارڈ کی گئی ہے۔نومبرکے آغازپردودن میں سموگ پر کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے 2,069,254 روپے کے جرمانے عائد کئے گئے، 164ایف آئی آر درج کی گئیں۔ 6,584سواریوں کے چالان کئے گئے۔386گاڑیاں جبکہ 29صنعتی یونٹ اور اڈے بند کئے گئے۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ نے کوڑا کرکٹ، ربر اور پلاسٹک کی آتشزدگی پر روک تھام کے لیے 58ہزار 5سو روپے کے جرمانے عائد کئے اور 41ایف آئی آر درج کیں، تجاوزات پر کنٹرول کے لیے 506,754روپے کے جرمانے کئے گئے اور 14رپورٹس درج ہوئیں۔

6ہزار3سو87مقامات پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا 621سڑکوں کی مرمت کی گئی۔ ریلیف کمشنر پنجاب نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ سموگ کی شرح میں اضافے کی صورت میں پلان کے مطابق مجوزہ اقدامات پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ سموگ کی شدت والے علاقوں میں رہائشیوں کی آؤٹ ڈور سرگرمیوں کو کم سے کم کروایا جائے اور ماسک کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔