صوبائی وزیر تحفظ ماحولیات محمد رضوان کی زیر صدارت محکمانہ اجلاس

سموگ کی صورتحال کے پیش نظر بھٹوں کی بندش07نومبر سے کرنے پر تبادلہ خیال   ایسے اقدامات یقینی بنانا ہوں گے، جس سے ما حولیاتی آلودگی سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے:محمد رضوان  

صوبائی وزیر تحفظ ماحولیات محمد رضوان کی زیر صدارت محکمانہ اجلاس

لاہور : صوبائی وزیر تحفظ ماحولیات محمد رضوان کی زیر صدارت محکمانہ اجلاس کا انعقاد محکمہ ماحولیات کے کمیٹی روم میں کیا گیا، جس میں سموگ کی روک تھام یقینی بنانے کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔سیکرٹری تحفظ ماحولیات زاہد حسین نے صوبائی وزیر کو دوران بریفنگ بتایا کہ کچھ عرصہ قبل  بھٹہ ایسوسی ایشن کے نمائندگان کے ساتھ ایک اہم ملاقات ہوئی تھی، جس میں انہوں نے اپیل کی تھی کہ صوبہ بھر میں بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی یا دوست ماحول ٹیکنالوجی پر منتقلی کی دی گئی حتمی تاریخ کوکم از کم 2ماہ تک آگے بڑھا یا جائے تاکہ کورونا کے باعث جسطرح حکومت وقت کی طرف سے ہر کاروباری طبقے کو خصوصی ریلیف دیا جارہا ہے۔

ایسے ہی بھٹہ انڈسٹریز کو بھی نوازا جائے اور آسان قرضوں کی صورت میں لڑ کھڑاتی انڈسٹری کو پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں بھی مدد کی جائے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے تحفظات آگے حکام تک پہنچائے گئے تھے تاہم حال ہی میں جوڈیشل انوارٹمنٹ کمیشن کے اجلاس میں بھٹہ ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے از خود اعلان کیا کہ وہ 07نومبر سے 31دسمبر 2020تک بھٹے بند کریں گے تاکہ سموگ پر قابو پایا جا سکے۔

ڈی جی ماحولیات ارشد عباس نے صوبائی وزیر کو بتایا کہ اس حوالے سے بہت جلد ایک معاہدہ بھی دستخط کرنے جا رہے ہیں اور تمام اضلاع کے ڈی سی اوز کو پابند کیاجائیگا کہ وہ اس فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔اس کے علاوہ فصلوں کی باقیات کو جلانانے،کوڑا کرکٹ جلانے اور بھٹوں وغیرہ سے نکلنے والے زہریلے دھوئیں کو روکنے کے لئے اقدامات یقینی بنائی جا رہے ہیں۔ صوبائی وزیر محمد رضوان نے کہاکہ یہ امر خوش آئند ہے کہ بھٹہ ایسوسی ایشن نے خود ہی بھٹوں کی بندش کا فیصلہ کرلیا تاکہ ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کو ممکن بنایا جائے اور سموگ جیسی صورتحا ل پر قابو پایا جا سکے۔

انہوں نے کہاکہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی سموگ بھی نظر آنا شروع ہوجاتی ہے تاہم بڑی وجہ گاڑیوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو ملکر ایک مربوط حکمت عملی اپناتے ہوئے سموگ پر قابو پانا ہوگا۔انہوں نے مزید کہاکہ بھٹوں وغیرہ کی بندش یا روزگار ختم کرنا مقصد نہیں بلکہ خواہاں ہیں کہ زگ زیگ یا دوست ماحول ٹیکنالوجی پر منتقلی یقینی بنائی جائے تاکہ ماحولیاتی آلودگی سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔