پنجاب روز گار سکیم کو کسی ایک کاروبار یا طبقہ کے ساتھ مخصوص نہیں کیا گیا : مخدوم ہاشم جواں بخت

پنجاب روزگار سکیم صوبے کی معاشی ترقی کو منفی سے مثبت رجحان کی طرف لے جائیگی سکیم کے تحت پنجاب کے تمام اضلاع میں نہ صرف شہروں بلکہ دیہاتوں میں بھی ہر اس شخص کو اپنی دلچسپی کے مطابق کاروبار کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے جو اب تک صرف وسائل میں کمی کی وجہ سے روزگار سے محروم ہے

 پنجاب روز گار سکیم کو کسی ایک کاروبار یا طبقہ کے ساتھ مخصوص نہیں کیا گیا : مخدوم ہاشم جواں بخت

لاہور: پنجاب روزگار سکیم صوبے کی معاشی ترقی کو منفی سے مثبت رجحان کی طرف لے جائیگی۔ پنجاب روز گار سکیم کو کسی ایک کاروبار یا طبقہ کے ساتھ مخصوص نہیں کیا گیا سکیم کے تحت پنجاب کے تمام اضلاع میں نہ صرف شہروں بلکہ دیہاتوں میں بھی ہر اس شخص کو اپنی دلچسپی کے مطابق کاروبار کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے جو اب تک صرف وسائل میں کمی کی وجہ سے روزگار سے محروم ہے۔

سکیم کے تحت کاروبار کے خواہشمند افراد 5سے 50فیصد مارک اپ کے ساتھ کاروبار کا آغاز کر سکیں گے۔ پنجاب روزگار سکیم ماضی کی سکیموں کی طرح قرض برائے قرض سکیم نہیں۔ سکیم میں بنک فعال کردار ادا کریں گے اور مستفید ہونے والے افراد کو کاروبار کے آغاز کے لیے موثر رہنمائی بھی مہیا کی جائے گی۔ پنجاب روزگار سکیم صوبے میں روزگار کے 16000سے زائد مواقع پیدا کرے گی۔ پنجاب میں بنکوں کے اشتراک سے جاری مختلف سکیموں کے محاصلات پر نظر ثانی کی جارہی ہے۔ ایسی سکیمیں جو اپنے مقاصد پورے کرنے میں ناکام ہیں مزید جاری نہیں رکھی جائیں گی۔

ان خیالات کا اظہار آج وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے وزیر اعلیٰ سکیرٹریٹ میں کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کے 43 ویں اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پبلک سیکٹر بنکوں کے قیام کا مقصد عوامی بہبود ہے مستقبل میں بنکوں کے اسی کردار کو فروغ دیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے سیکرٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ بنک آف پنجاب اور کوآپریٹو بنک کے ساتھ ان تک کی تمام سکیموں کی لاگت اور محاصلات کا تفصیلی جائزہ لیں تاکہ مستقبل میں زیادہ موثر پروگرام متعارف کروائے جا سکیں۔

اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے 16سے زائد سفارشات زیر بحث لائیں گئیں جن میں جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ میں نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے لاہور سول سیکرٹریٹ کی طرز پر ایگزیکٹو الاؤنس کی منظوری، ایمرجنسی سروسز اکیڈیمی میں پرنسپل کی بھرتی، محکمہ جیل خانہ جات میں واچ اینڈ وارڈ اور میڈیکل سٹاف کی بھرتیوں پر پانبدی کے خاتمے، گرین بیلٹس کو سیراب کرنے والے پانی کی ترسیل کے لیے لاریوں کی خریداری کی اجازت، پنجاب ہارٹیکلچر ایجنسی سیالکوٹ، اور لاہور میں اربن فارسٹ میواکی (Miyawaki)کے آغاز کے لیے خصوصی گرانٹ کی منظوری، قائد اعظم سولر پارک لمیٹیڈ میں خالی نشستوں پر بھرتیوں اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے تحت اداروں کی بحالی کے لیے فنڈزکی منظوری شامل تھیں جنھیں اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ محکمہ جیل خانہ جات کو بھرتیوں کی تعداد پر نظر ثانی اور جیلوں میں صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی گئی۔

وزیر خزانہ پنجاب نے ہارٹیکلچر ایجنسیوں کے تحت اشتہارمہموں کی بحالی اور وسائل میں اضافے کے لیے ماحول دوست بزنس ماڈل متعارف کروانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ سیکرٹری قانون اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے ساتھ مشاورت کے بعد ہارٹیکلچر ایجنسیوں کے دائرہ کار اور مقاصد کو واضح کریں۔

صوبائی وزیر نے لاہور ہارٹیکلچر ایجنسی کو گرین بیلٹس کو سیراب کرنے کے لیے نہری پانی کے استعمال اور مختلف مقاصد کے لیے استعمال شدہ پانی کی گرین بیلٹس کے لیے موزونیت کے ٹیسٹ کروانے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں ذہنی صحت کے شفا خانوں کی حالت زار کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ اس ضمن میں پنجاب میٹل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کی کارکردگی میں بہتری ہسپتال کی تجدید کاری کے لیے سکیم کی بھی منظور ی دی گئی۔ اجلاس کے دیگر شرکاء میں صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال، مشیر وزیر اعلیٰ برائے اقتصادی امور ڈاکٹر سلمان شاہ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سیکرٹری خزانہ اورمتعلقہ محکموں کے سیکرٹری صاحبان شامل تھے۔ وزیر صنعت نے جیلوں سے ضمانت پر رہا ہونے والے مجرموں کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے موثر نظام کی ضرورت پر زور دیا۔