نئے پریس اینڈ پبلی کیشن ایکٹ سے معاملات میں بہتری آئیگی، سیکرٹری انفارمیشن

ڈیکلریشن کے اجرا یا تبدیلی میں تاخیر کی شکایات کا ازالہ ہوگا، راجہ جہانگیر انور کی سی پی این ای وفد سے گفتگو نئے ایکٹ پر تحریری تجاویز جلد حکومت کو پیش کر دی جائیں گی، ارشاد احمد عارف، اعجازالحق، یوسف نظامی

 نئے پریس اینڈ پبلی کیشن ایکٹ سے معاملات میں بہتری آئیگی، سیکرٹری انفارمیشن

لاہور:سیکرٹری اطلا عات و ثقافت راجہ جہانگیر انور نے آج یہاں محکمہ تعلقات عامہ کے کمیٹی روم میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے عہدیداران کو مجوزہ بریفنگ میں پنجاب پریس اینڈ پبلی کیشن ایکٹ 2020پر بریفنگ دی۔ بریفنگ میں ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر، گروپ ایڈیٹر 92 نیوز ارشاد احمد عارف، منیجنگ ایڈیٹر ایکسپریس گروپ اعجاز الحق، گروپ ایڈیٹر ایکسپریس ایاز خان، منیجنگ ایڈیٹر پاکستان ٹوڈے یوسف نظامی، منیجنگ ڈائریکٹر ڈیلی ٹائمز کاظم خان اور ڈائریکٹر نیوز پنجاب جاوید یونس بھی موجود تھے۔

سیکرٹری اطلاعات نے وفد کو بتایا کہ مسودہ قانون پر سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کے بعد اسے کابینہ کی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر اٹھارویں ترمیم کے بعد محکمہ اطلاعات نے پرنٹ میڈیا کے معاملات کو ریگولیٹ کرنے پر کام کیا۔ راجہ جہانگیر انور نے کہا کہ پریس رجسٹرار ون ونڈو آپریشن کے ذریعے پرنٹ میڈیاکو تمام سہولیات مہیا کرے گا۔ اس طرح ڈیکلریشن کے اجرا یا تبدیلی میں تاخیر کی شکایات کا ازالہ ہوگا۔

نئے قانون میں رجسٹرار یا محکمہ اطلاعات کے فیصلوں کیخلاف پنجاب پریس ٹربیونل سے رجوع اور یہ ٹربیونل ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی سربراہی میں کام کرے گا۔ ارشاد احمد عارف اور اعجازالحق نے کہا کہ سی پی این ای کے پلیٹ فارم سے نئے ایکٹ پر تحریری تجاویز جلد حکومت کو پیش کر دی جائیں گی۔