وزارت انسانی حقو ق اور یوتھ ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے دو روزہ سیشن کا انعقاد

 صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین کی خصوصی شرکت  سیشن میں ڈی جی لوکل گورنمنٹ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوتھ ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن شاہد رحمت کی بھی شرکت

وزارت انسانی حقو ق اور یوتھ ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے دو روزہ سیشن کا انعقاد

لاہور: صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق واقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین نے کہاکہ نیا بلدیاتی نظام حقیقی معنوں میں مثبت تبدیلی کا ضامن ہوگا جبکہ مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندگان کو بھی اپنے علاقوں میں اکثریت کی بناء پر مقامی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے کا موقع مل سکے گا۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت خوااہاں ہے کہ جلد از جلد نیا بلدیاتی نظام نافذ کیا جائے تاکہ پچھلے فرسودہ نظام کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے بلدیاتی نظام کا کریڈٹ بھی تحریک انصاف کی حکومت کو جاتا ہے جیسے کے پہلے خیبر پختونخوا ہ میں متعارف کروایا گیا، جس سے صوبے کے لوگوں کا مکمل اعتماد حاصل ہوا جبکہ صحت، تعلیم اور امن و امان کے شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ نئے بلدیاتی نطام کے باعث اقتدار کو نچلی سطح پر منتقل کیا جا سکے گا جو کہ عام آدمی کو حقیقی طور پر بااختیار بنانے کے علاوہ مقامی مسائل کو بھی تیز اور شفاف طریقے سے حل کرنے اور پائیدار ترقی کو ممکن بنانے میں مدد فراہم کرسکے گا۔

ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے لاہور کے بلدیاتی رہنماؤں کے ساتھ دو روزہ اورینٹیشن ورکشاپ موضوع: سیاسی عمل میں خواتین، نوجوانوں اور مذہبی اقلیتوں کو یکساں نمائندگی سے با اختیار بنانا:سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ سیشن کا انعقاد صوبائی محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور نے یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن (وائی ڈی ایف) کے تعاون سے نیو منسٹر بلک کے دفتر کے آڈیٹوریم میں کیا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن شاہد رحمت نے تمام شرکاء کو دوران بریفنگ بتایا کہ سیشن کے انعقاد کا مقصد ہے کہ نوجوان نسل کے ذریعے تحصیل بلکہ یو سیز تک گورننس کے نظام کو مزید بہتر کیا جا ئے اور عوام کو ولیج اینڈ پنجاب ایکٹ 2019، لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019جیسے متعدد اقدامات بارے آگاہی دیجا سکے تاکہ عوام میں مزید شعور اجاگر کیاجا سکے۔

انہوں نے کہاکہ بلا شبہ نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم تحصیل اور دیہی سطح پر منتخب نمائندوں کو بااختیار بنائے گا اور سیشن میں ورکنگ گروپ تشکیل دیئے جا رہے ہیں، جس میں مذہبی اقلیتوں سے منسلک نوجوان اور خواتین کو نمایاں ذمہ داریاں دیجا رہی ہیں تاکہ وہ بلدیہ کی نئی ایپ سمیت نئے بلدیاتی نظام کے فوائد بارے عوام کو آگاہ کرسکیں۔ ڈی جی لوکل گورنمنٹ آسیہ گل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ  تحصیل اور پنچایت کی سطح پر نئی بلدیاتی نظام کا قیام یقینی طور پر ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور اس سے عام آدمی کو فائدہ ہوگا جبکہ مقامی سطح پر عوام کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔

صوبائی وزیر نے سیشن کے اختتامی کلمات میں یوتھ ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور سیشن کے انعقاد کو سراہتے ہوئے امید کا اظہار کیا کہ فلاحی اداروں کے تعاون سے تحریک انصاف عوام کی زندگیوں میں انقلاب لا کر رہے گی۔ سیشن کے اختتام پر صوبائی وزیر نے سیشن میں شریک نوجوانوں، خواتین اور مختلف نمائندگان میں تعریفی اسناد اور شیلڈ تقسیم کیں۔سیشن میں وکلاء، ماہرین تعلیم، نوجوانوں کی بڑی تعداد، انسانی حقوق کے سماجی رہنماؤں اور محکمہ انسانی حقوق کے عہدیداران نے شرکت کی۔