برطانوی شاہی خاندان کی ملکہ الیزبتھ دوم پرنس ولیم کی بیوی کو بہو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں

غیر ملکی میڈیا رپوٹس کے مطابق برطانوی شاہی خاندان کی ملکہ الزبتھ دوم، پرنس ولیم کی کیٹ مڈلٹن سے شادی کے خلاف تھیں اور کیٹ کے بطور بہو شاہی خاندان سے منسلک ہونے پر خوش نہیں تھیں

برطانوی شاہی خاندان کی ملکہ الیزبتھ دوم پرنس ولیم کی بیوی کو بہو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں

برطانوی شاہی خاندان کی ملکہ الیزبتھ دوم بڑے پوتے پرنس ولیم کی بیوی کیٹ مڈلٹن کو بطور شاہی بہو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں ۔غیر ملکی میڈیا رپوٹس کے مطابق برطانوی شاہی خاندان کی ملکہ الزبتھ دوم، پرنس ولیم کی کیٹ مڈلٹن سے شادی کے خلاف تھیں اور کیٹ کے بطور بہو شاہی خاندان سے منسلک ہونے پر خوش نہیں تھیں ۔ غیر ملکی میڈیا رپوٹس کے مطابق ملکہ الزبتھ اور بادشاہ فلپ دونوں کی جانب سے شدید خدشات و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا ۔ شاہی سوانح نگار کیٹی نکول کے مطابق ملکہ الزبتھ کو خدشات لاحق تھے کہ آیا کیتھرین مڈلٹن آنے والے وقت میں انگلینڈ کی ملکہ بننے کے لیے موزوں ثابت ہوں گی یا نہیں ۔

کیٹی نکول کی جانب سے لکھی گئی کتاب ’دی میکنگ آف رائل رومینس‘ میں کہنا ہے کہ ملکہ الیزبتھ کو شدید خدشات لاحق تھے کہ پرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی منگنی کی خبر عام ہونے سے قبل کیٹ کو خود کوئی نوکری کرنے اور اپنی ایک الگ پہچان اور مقام بنانے کی ضرورت ہے ۔ کیٹی نکول کا کہنا ہے کہ ملکہ الزبتھ خود ایک محنتی شاہی فرد ہیں، ادھیڑ عمری کے باوجود انہوں نے شاہی خاندان کے مستقبل کے لیے معاملات کو بڑی مہارت سے سنبھال رکھا ہے۔

شاہی سوانح نگار کیٹی نکول کے مطابق شاہی خاندان کے دوسرے افراد کی جانب سے کیتھرین مڈلٹن کے لیے کچھ ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ کیتھرین کا ایک سادہ سے خاندان سے تعلق ہے اور اُن کا شاہی خاندان سمیت پیشہ ورانہ زندگی سے متعلق کوئی تجربہ بھی نہیں، ایسی خاتون کا ملکہ بن جانے سے متعلق شاہی خاندان کے متعدد افراد کو خدشات لا حق تھے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ کیتھرین مڈلٹن کے خود کو شاہی خاندان کے مطابق ڈھال کر مستقبل کی ملکہ بننے کی اہلیت کو ثابت کیا ہے۔واضح رہے کہ پرنس ولیم اور کیتھرین مڈلٹن کی 2010ء میں منگنی ہوئی تھی جبکہ 2011ء   میں دونوں رشتہ اذدواج میں منسلک ہو گئے تھے ۔