وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب کے مابین مذاکرات، دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب کے مابین مذاکرات، دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد :پاکستان اور برطانیہ کے وزراء خارجہ نے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ جمعہ کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب کے مابین وزارت خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات میں نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سپیشل سیکرٹری خارجہ رضا بشیر تارڑ اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

وزیر خارجہ نے برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب اور ان کے وفد کو وزارت خارجہ آمد پر ان کو خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آپ کا یہ دورہ ایسے تاریخی وقت پر ہو رہا ہے جب افغانستان کی صورتحال اہم تاریخی موڑ سے گزر رہی ہے، میرا 16 اگست اور 27 اگست کو آپ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ ہوا، ہم نے افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیراعظم برطانیہ بورس جانسن کے درمیان بھی ٹیلی فونک رابطہ اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔

وزیر خارجہ نے برطانوی ہم منصب کو مختلف ممالک کے وزراء خارجہ کے ساتھ ہونے والے حالیہ روابط سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے حوالے سے لگائے گئے تمام اندازے اور پشین گوئیاں غلط ثابت ہوئیں، اطمینان بخش بات یہ ہے کہ افغانستان میں حالیہ تبدیلی کے دوران کوئی خون خرابہ نہیں ہوا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ طالبان کی قیادت کی جانب سے عام معافی، حقوق کے تحفظ اور افغان سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کے متعلق بیانات حوصلہ افزا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 40 سال سے جاری جنگ و جدل کے خاتمے کا ایک سنہری اور تاریخی موقع ہے، عالمی برادری کو 90 کی دہائی میں کی گئی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے افغانستان کی انسانی و مالی معاونت کو یقینی بنانے کے لیے آگے بڑھنا ہو گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کو تنہا چھوڑا گیا تو خانہ جنگی، معاشی بحران، مہاجرین کی یلغار سمیت کئی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس نازک موقع پر امن مخالف قوتوں ”اسپائیلرز” پر بھی کڑی نظر رکھنا ہو گی جو افغانستان میں امن کاوشوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے متحرک ہیں۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں اجتماعیت کے حامل سیاسی تصفیے کا حامی ہے، افغانستان میں قیام امن پورے خطے کے امن و استحکام اور روابط کے فروغ کے لیے ضروری ہے، افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر متفقہ لائحہ عمل کی تشکیل کے لیے میں نے خطے کے ہمسایہ ممالک کا دورہ کیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میری تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور ایران کی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں حوصلہ افزا اور سودمند رہیں، پاکستان نے 24 ممالک کے سفارتی عملے، شہریوں اور بین الاقوامی اداروں کے اہلکاروں کو کابل سے انخلا میں معاونت فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان اور برطانیہ افغانستان کی موجودہ صورتحال پر مسلسل رابطے میں ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کابل سے برطانوی شہریوں اور سفارتی عملے کے انخلا میں معاونت پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزراء خارجہ کے مابین دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے کورونا وبا کے پھیلائو کو روکنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے، برطانیہ کی طرف سے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کے فیصلے پر تشویش ہے، ہمیں توقع ہے کہ برطانیہ اعدادوشمار کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کو ریڈ لسٹ پر رکھنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے گا