کرائم برانچ کو ڈکیتی، کارو موٹر سائیکل چوری اور منشیات فروشوں کے گینگ کے قلع قمع کیلئے ہدایات جاری

اگلے ہفتے سے ڈی پی او ز اور سرکل افسران کے دفاتر میں کورونا ایس او پیز کے تحت ہفتہ وار کھلی کچہری شروع کی جائے پولیس کے آپریشنل اور ورکنگ سسٹم کو آئی ٹی کے جدید ماڈیولز پر اپ گریڈیشن کے عمل کو مزید تیز کیاجائے: آئی جی پنجاب

کرائم برانچ کو ڈکیتی، کارو موٹر سائیکل چوری اور منشیات فروشوں کے گینگ کے قلع قمع کیلئے ہدایات جاری

لاہور:  انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر نے کہا ہے کہ سنٹرل کرائم برانچ ڈکیتی، کارو موٹر سائیکل چوری اور منشیات فروشی میں ملوث عادی اور پیشہ ور مجرمان کی کاروائیوں کا بغور تجزیہ کرتے ہوئے نہ صرف ان پوائنٹس کی نشاندہی کریں جہاں یہ گینگ زیادہ سرگرم ہیں بلکہ ان گینگز کے طریقہ واردات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد متعلقہ ضلع کو انکی گرفتاری کا ٹاسک دیں اور راہنمائی فراہم کریں جبکہ دیگر اضلاع گینگز کی گرفتاری کیلئے آپریشن میں متعلقہ ضلع کو مکمل سپورٹ فراہم کریں۔

انہوں نے کہاکہ تمام اضلاع کے ڈی پی از اور سر کل افسران اگلے ہفتے سے اپنے دفاتر میں کورونا ایس اوپیز کے مد نظر رکھتے ہوئے ہفتہ وار کھلی کچہریوں کا باقاعدگی سے انعقاد شروع کریں تاکہ شہریوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دیہی تھانوں میں فرنٹ ڈیسک کے حوالے سے موصول شکایات کے خاتمے کیلئے آئی جی پنجاب نے ہدایات دیتے ہوئے کہاکہ دیہی تھانوں میں فرنٹ ڈیسک کی مانیٹرنگ پر بطور خاص توجہ دی جائے اور اس حوالے سے ماہانہ رپورٹ باقاعدگی سے مجھے بھجوائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جرائم کی بیخ کنی اور پبلک سروس ڈلیوری کو بہترسے بہتر بنانے کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا موثرا ستعمال وقت کی اہم ضرورت ہے چنانچہ تھانوں کی ورکنگ کومزیداپ گریڈ کرنے کیلئے جاری کردہ ایس اوپیز کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی کاموثر استعمال ہر صورت یقینی بنایا جائے اور سینئر افسران خود اچانک دورے کرکے خلاف ورزی کی صورت ذمہ داران سے باز پرس بھی کریں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ انٹرنل اکاؤنٹیلٹی برانچ خود احتسابی کے عمل کو تیز کرنے کیلئے آئی ٹی ایپس اور سافٹ وئیرز کے موثر استعمال سے تھانوں،پولیس دفاتر اورمحکمانہ انکوائریز کی مانیٹرنگ کے عمل کو بہتر سے بہتر بنائے اورمکمل غیر جانبداری سے تمام امور کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ پتنگ بازی، ہوائی فائرنگ، قمار بازی و منشیات فروشی کے مقدمات کے اندراج سے چالان کی تکمیل تک ڈیجیٹل مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے تاکہ قانون شکن عناصرکو سزائیں دلوانے کا عمل مزید تیز ہوسکے اور شہریوں کی جان ومال کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ بین الصوبائی چیک پوسٹوں کی 24/7ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی15روزہ رپورٹ سی پی او بھجوائی جائے جبکہ اٹک، میانوالی، لیہ سمیت دیگر اضلاع میں موجود ریورائن چیک پوسٹوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور کارکردگی جانچنے کیلئے علیحدہ ایپ تیار کی جائے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ عوامی سہولت کیلئے شروع کردہ آئی ٹی پراجیکٹس سے مطلوبہ نتائج صرف بہترمانیٹرنگ و انسپکشن سے حاصل کئے جاسکتے ہیں چنانچہ شہریوں کے مسائل کے ازالے کیلئے ایس پی کمپلینٹس، فرنٹ ڈیسک، 8787کمپلینٹ سنٹر،پولیس خدمت مراکزاور پکار 15سٹاف اپنے فرائض مزید تندہی سے سر انجام دیں اور شہریوں کو انکے مسائل کے فوری حل کے حوالے سے ہر ممکن راہنمائی مہیا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کے دوران افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کیا۔اجلاس میں جدید پولیسنگ کے حوالے سے تمام شعبوں کو درکار ایپس و سافٹ وئیرز اور انکی اپ گریڈیشن سمیت دیگر امور زیر بحث آئے۔

دوران اجلاس ایڈیشنل آئی جی آپریشنز، ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن اورا یڈیشنل آئی جی آئی اے بی نے اپنے شعبوں میں آئی ٹی پراجیکٹس کے استعمال کے حوالے سے پراگریس رپورٹ بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ آئی جی پنجاب کے ویژن کے مطابق پولیس ورکنگ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید سافٹ وئیرز اور ایپلی کیشنزکا استعمال تیزی سے جاری ہے تاکہ عوام جدید پولیسنگ کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔ آئی جی پنجاب نے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ ہر پراجیکٹ کی کارکردگی کو برقرار رکھنے کیلئے باریک بینی سے مانیٹرنگ و انسپکشن کا عمل جاری رکھا جائے اور سمارٹ پولیسنگ کے اصولوں کے مطابق سنگین جرائم کی بیخ کنی اور تفتیش کے عمل میں جدید ٹیکنالوجی سے بطور خاص استفادہ کیا جائے تاکہ کم سے کم وقت میں ملزمان کو پابند سلاسل کرکے انہیں سزائیں دلوانے کا عمل تیز سے تیز تر ہوسکے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ شہریوں کی سہولت کیلئے خدمت مراکز کی طرز پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مزید پراجیکٹس شروع کرنے کے حوالے سے پلاننگ کی جائے جبکہ آپریشنل اور انویسٹی گیشن ڈیوٹیز کیلئے بھی نئے سافٹ وئیرز اور ماڈیولز تیار کئے جائیں۔ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، کیپٹن(ر) ظفر اقبال، ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی، اظہر حمید کھوکھر، ایم ڈی سیف سٹی، ایڈیشنل آئی جی راؤ سردار، ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ، شاہد حنیف، ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ، بی اے ناصر، ایڈیشنل آئی جی انوسٹی گیشن پنجاب، فیاض احمد دیو، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، محمد طاہر رائے،چیف ایڈمن آفیسرسیف سٹی، ڈی آئی جی کامران خان، ڈی آئی جی پی ایچ پی، طارق عباس قریشی، ڈی آئی جی آئی ٹی، وقاص نذیر اور اے آئی جی آپریشنز، عمران کشور کے علاوہ دیگر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔