وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا خارجہ پالیسی اہداف 2021 کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب

 وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا خارجہ پالیسی اہداف 2021 کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد۔ :وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے سال 2021کے دوران دوطرفہ اور کثیرالجہتی سمیت مختلف سفارتی محاذوں پر سفارتی مقاصد کو فعال اور مستقل طور پر آگے بڑھایا۔ ہم نے بڑی طاقتوں اور خطے کے تمام کلیدی شراکت داروں کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور دوستی کو مستحکم کیا، جموں و کشمیر کے تنازعہ اور افغانستان کی صورتحال سمیت خارجہ پالیسی کے اہم مسائل پر کامیابی اور موثر طریقے سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

پاکستان بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات کا حامی ہے لیکن ماحول کو ساز گار بنانے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے،مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا،نہتے کشمیریوں پر جاری منظم جبرو استبداد کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔خطے میں پائیدار امن و استحکام اور اقتصادی ترقی اور علاقائی تعاون کے وسیع امکانات ہندوستان کے تسلط پسندانہ اور معاندانہ رویوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔

کاروبار کرنے میں آسانی میں پاکستان کی درجہ بندی میں 39 پوائنٹس، افریقہ کے ساتھ تجارت میں 7 فیصد اضافہ اور پاکستان کی کاروباری اعتماد کی درجہ بندی میں 59 پوائنٹس کی بہتری آئی۔ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کا کردار، جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس کی طرف منتقلی، وژن سینٹرل ایشیا، انگیج افریقہ، پبلک ڈپلومیسی اور ڈیجیٹل ڈپلومیسی سمیت کئی اہم پیش رفتوں اور اقدامات نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

پیر کو یہاں خارجہ پالیسی اہداف 2021 کے حوالے سے پریس کانفرنس کر تے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے سال 2021کے دوران دوطرفہ اور کثیرالجہتی سمیت مختلف سفارتی محاذوں پر اپنے سفارتی مقاصد کو فعال اور مستقل طور پر آگے بڑھایا اور جموں و کشمیر کے تنازعہ و افغانستان کی صورتحال سمیت خارجہ پالیسی کے اہم مسائل پر کامیابی اور موثر طریقے سے اپنا نقطہ نظر اور بیانیہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ 2021ڈپلومیٹک انگیجمنٹ کا سال تھا،ہم نے وزیر اعظم کے وژن 2021پر مکمل عملدرآمد کیا اور وزارت خارجہ میں متعدد اصلاحات کیں،مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اسلامو فوبیا کو اقوام متحدہ سمیت عالمی سطح پر اجاگر کیا۔

روس،یورپی یونین،افریقہ ،آسیان ،مشرقی وسطی،وسطی ایشیاءممالک سے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔امریکہ کیساتھ تعلقات میں پیشرفت جاری اور امریکہ کیساتھ تعلقات کو مزید وسیع اور گہرا کرنے کے خواہاں ہیں۔اوور سیز پاکستانیز ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔سال 2021 کو اہم قرار دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کا کردار، جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس کی طرف منتقلی، وژن سینٹرل ایشیا، انگیج افریقہ، پبلک ڈپلومیسی اور ڈیجیٹل ڈپلومیسی سمیت کئی اہم پیش رفتوں اور اقدامات نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کو آگے بڑھانے میں معاونت فراہم کی ہے۔

سال 2021کے دوران اقتصادی سفارتکاری اور پبلک ڈپلومیسی کو تیزی سے فروغ ملا۔افغانستان کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کا معاملہ ایک چیلنج ہے کیونکہ افغانستان کی صورتحال سے پاکستان براہ راست متاثر ہوتا ہے۔اس کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے امن عمل میں بھر پور کردار ادا کیاہے جسے دنیا نے سراہا ہے۔