لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف لیبر ڈیپاٹمنٹ کا کریک ڈاؤن

مالکان ادارہ جات کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اپنے ملازمین / ورکرز کو اجرت قا نون کے مطابق ادا کریں جو کہ کم از کم 17500/-غیر ہنر مند ورکرز کی تنخواہ ہے ورکرز معیشت کا پہیہ ہوتے ہیں ان پر پورے ملک کی معیشت کا دارو مدار ہوتا ہے

لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف لیبر ڈیپاٹمنٹ کا کریک ڈاؤن

لاہور:محکمہ لیبر و انسانی وسائل نے وزیر لیبر جناب انصر مجید خان صاحب، سیکرٹری لیبر پنجاب محمد عامر جان صاحب اورڈائریکٹر  جنرل لیبر پنجاب فیصل نثار صاحب کے حکم پر ایسے ادارے، پٹرول پمپس، دوکانات و فیکٹر یز، ہوٹلز، ڈیپاٹمنٹل سٹورز اور بھٹہ جات کے خلاف لیبر و قوانین کا نفاذ یقینی بنانے کیلئے کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔ جو ادارے لیبر قوانین پر عمل نہیں کریں گے ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مالکان ادارہ جات کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اپنے ملازمین / ورکرز کو اجرت قا نون کے مطابق ادا کریں جو کہ کم از کم 17500/-غیر ہنر مند ورکرز کی تنخواہ ہے۔ ورکرز معیشت کا پہیہ ہوتے ہیں ان پر پورے ملک کی معیشت کا دارو مدار ہوتا ہے۔

وہ دن رات کام کر کے ملک کی خدمت کرتے ہیں اور اپنے ملک کی آمدنی کا ذریعہ بنتے ہیں لہذا ہمیں ان کی صحت اور لیبر قوانین کے تحت حاصل مراعات کا ہر لحاظ سے خیال رکھنا چاہیے یہ ہمارا دینی اور قانونی فرض ہے۔ آئندہ جو ادارے لیبر قوانین کی خلاف ورزی کریں گے تو انہیں عدالتوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گااور جرمانہ اور قید کی سزا بھی بھگتنی پڑے گی۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ بہت زیادہ متحرک ہو چکا ہے اور اب غریب مزدور کو اس کا حق دلوانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اگر کسی بھی مزدور/ ورکرز کو کسی قسم کی کوئی شکایت ہوتو وہ اپنے قریبی دفتر لیبر سے رجوع کر سکتا ہے اس کی شکایت کا ہر ممکن ازالہ کیا جائے گا۔

ڈائریکٹر لیبر ویلفیئر لاہور نارتھ جناب ارشد محمودتارڑ صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے ڈویژن میں لیبرقوانین پر عمل دارآمد کو یقینی بنانے اور اس کی چیکنگ کیلئے پانچ ٹیمیں تشکیل دی ہوئی ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کر رہی ہیں۔ ان ٹیموں نے تین یوم (31اگست2020ء سے 02ستمبر2020ء میں لاہور، شیخو پورہ اور ننکانہ صاحب میں مختلف ہوٹلز، پٹرول پمپس، ڈیپارٹمنٹل سٹورز، دوکانات، بھٹہ جات اور فیکٹر یز وغیرہ کو چیک کیا۔ لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف 1485 چالان مختلف عدالتوں میں جمع کروائے گئے۔ آئندہ بھی لیبر قوانین پر عملدر آمد یقینی بنانے کیلئے ایسی کاروائیاں جاری رہے گی۔ وزیر لیبر صاحب اور سیکرٹری لیبر صاحب کے اس عزم کو کہ مزدور/ ورکرز کو اس کا حق ملنا چاہیے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔