صوبائی وزیر قانون،پارلیمانی امور و سوشل ویلفیئر راجہ بشارت کی زیر صدارت اجلاس

اجلاس میں صوبائی وزراء ڈاکٹر مراد راس، راجہ یاسر ہمایوں ،حافظ ممتاز احمد ،تیمور احمد خان اور متعلقہ سیکرٹری صاحبان بھی موجود تھے. کابینہ کمیٹی نے جن تجاویز کی منظوری دی

صوبائی وزیر قانون،پارلیمانی امور و سوشل ویلفیئر راجہ بشارت کی زیر صدارت اجلاس

صوبائی وزیر قانون،پارلیمانی امور و سوشل ویلفیئر راجہ بشارت کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں کابینہ کمیٹی برائے قانون کا 33 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں متعدد قانونی امور کی منظوری دی گئی. اجلاس میں صوبائی وزراء ڈاکٹر مراد راس، راجہ یاسر ہمایوں ،حافظ ممتاز احمد ،تیمور احمد خان اور متعلقہ سیکرٹری صاحبان بھی موجود تھے. کابینہ کمیٹی نے جن تجاویز کی منظوری دی.

ان میں پنجاب امتحانی کمشن کے رکن کی خالی آسامی پر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی نامزدگی، پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن رولز 2013 ء میں بجٹ سٹیٹمنٹ کی منظوری سے متعلقہ ترمیم ،میانوالی میں 500 بیڈز کے ہسپتال کی تعمیر کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ ایم او یوپر دستخط، لوکل گورنمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کو عبوری عرصہ کے لیے چیئرمین مصالحتی کونسل کے اختیارات دینے، عرفان علی ایڈووکیٹ کی بطور رکن پنجاب ماحولیاتی ٹربیونل  تعیناتی ، محکمہ صنعت کی جانب سے پیش کردہ پٹرول پمپوں کے لیے این او سی کے اجراء اور پنجاب اشیائے ضروریہ پرائس کنٹرول ایکٹ 2020ء کے نفاذ کی تجویزشامل تھی.

کمیٹی نے پنجاب پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے بل کا مسودہ مزید غوروخوض کے لیے ذیلی کمیٹی کے سپرد کر دیا جس کے سربراہ صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں ہوں گے.