پاکستان کی حکومت اور عوام دل و جان سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، کسی بھی قسم کا ظالمانہ جبر اور سفاکیت ان کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکا،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

پاکستان کی حکومت اور عوام دل و جان سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، کسی بھی قسم کا ظالمانہ جبر اور سفاکیت ان کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکا،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد :صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام دل و جان سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اور کسی بھی قسم کا ظالمانہ جبر اور سفاکیت ان کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک قومی روزنامہ میں لکھے گئے اپنے ایک آرٹیکل میں کیا ہے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے آرٹیکل میں لکھا کہ اس سال 5اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کو دو برس ہو گئے ہیں۔یہ دو سال اس تلخ امر کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ اس جدید دور میں بھی ہمارے کشمیری بہن بھائی ایک سفاک فوجی قبضے کے زیرِ سایہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ دن ہمیں اس بات کا بھی احساس دلاتا ہے کہ بہادر کشمیریوں کا جذبہ آزادی، جس کی بنیاد ان کے آبا و اجداد نے ڈوگرہ راج کے خلاف اپنی تحریک حریت سے ڈالی ، ابھی بھی تروتازہ ہے۔کشمیری اپنے حقِ خود ارادیت کے حصول کیلئے گزشتہ سات دہائیوں سے جدو جہد کررہے ہیں اور کسی بھی قسم کا ظالمانہ جبر اور سفاکیت ان کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکا۔انہوں نے لکھا کہ پاکستان اور اس کے عوام دل وجان سے اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ہم ہمیشہ سے کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کے پرامن حل کے کیلئے کوشاں رہے ہیں۔ عالمی سیاست کے مد وجزر کے باوجود ، پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت اور آزادی کے حصول کے لیے ہمیشہ سے پرعزم ہے اور رہے گا۔ حکومت مسئلہ کشمیر اور بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کررہی ہے۔کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ ، تنازعہ کشمیر سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا۔ عالمی سربراہان اور بین الاقوامی صحافیوں کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کے خلاف آواز بلند کی گئی۔آرٹیکل میں یہ بھی لکھا کہ وزیر اعظم ، انکی کابینہ اور ہمارے پارلیمان نے بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019ء سے جاری بھارتی وحشیانہ کاروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔

زمینی صورت حال اور قابض بھارتی افواج کے یکطرفہ غیر قانونی اقدامات سے یہ بات عیاں ہے کہ کشمیریوں کی شناخت مٹانے کا منصوبہ زورو شور سے جاری ہے۔ جبری طور پر آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کیلئے صدی پرانے شہریت کے قانون کا تبدیل کرنا اسی منصوبے کی ایک کڑی ہے۔

دنیا میں ایسے اقداامات سے مقامی آبادی اور قابضین کے مابین تلخیوں میں ہمیشہ اضافہ ہوا ہے۔ کشمیری مسلمان اپنے قابضین کے اس آبادیاتی منصوبے سے اچھی طرح سے واقف ہیں۔ ہندوستان نے اس حکمت عملی کو پہلی مرتبہ تقسیم ہند کے مرحلے میں استعمال کیا۔ نومبر ۱۹۴۷ ء میں مہاراجہ کے زیر سرپرستی ، ڈوگرہ نیم فوجی دستوں اور آ ر ایس ایس کے بلوائیوں نے تقریباً 3 لاکھ کشمیریوں مسلمانوں کا وحشیانہ قتل عام کیا۔

یہ خونریز نسل کشی جموں کے تقریبا ً دس لاکھ کشمیریوں کی جبری نقل مکانی کا باعث بنی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قتل عام حکومتی سرپرستی میں جموں ، جہاں مسلمان کل آبادی کا 60 فی صد اور واضح اکثریت تھے ، کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کا سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ اس نسل کشی اور جبری نقل مکانی سے جموں میں مسلمان اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا گیا اور یہ مصنوعی آبادیاتی تناسب آج تک قائم ہے۔ آج، ایک مرتبہ پھر،

ایسے ہی ایک خطرے کے بادل کشمیریوں پر منڈلا رہے ہیں ۔آبادیاتی ڈھانچے میں تبدیلی کے علاوہ، بھارتی حکومت نے گزشتہ 131 سالوں سے علاقے کی سرکاری زبان اردو کا استعمال کم کرنے کے لیے ایک قانون منظور کیا ہے ۔ عوامی مقامات کے مسلم نام بھی تبدیل کیے جا رہے ہیں جبکہ جبری حد بندی کے ذریعے مسلمانوں کی نمائندگی کو مصنوعی طور پر کم کرنے کے اقدامات کشمیریوں کی منفرد شناخت مٹانے کی ایک اور سعی ہے۔

یہ اقدامات بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے برعکس آرٹیکل 370 اور 35A کی یکطرفہ اور غیر قانونی منسوخی سے ہی ممکن ہوئے ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی آئین کے کسی بھی آرٹیکل کے اطلاق کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا ، لیکن آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے نتیجے میں زمینی صورتحال میں گہری تبدیلی آئی ہے۔ یہ دو طرفہ معاہدوں اور بین الاقوامی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے بھارت نے ظالمانہ اقدامات کے ذریعے جموں و کشمیر کو ایک جیل میں بدل دیا ہے۔ آج ہر کشمیری پر ایک ہندوستانی فوجی مسلط ہے۔ آج ہزاروں سیاسی رہنما ، اساتذہ ، کارکن ، صحافی اور طلباء کالے قوانین اور جھوٹے الزامات کے تحت جیلوں میں اسیر ہیں۔

ان کے ساتھ غیر انسانی اور ناروا سلوک کی وجہ سے ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔صدر نے لکھا کہ بی جے پی حکومت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوتوا نظریے سے کشمیر کے سیاسی تشخص ، تاریخی ورثے ، علاقائی امن اور عالمی اقدار کو خطرات لاحق ہیں

۔ بے جی پی کے زیرِ اثر بھارت طاقت کے استعمال اور فوجی مہم جوئی کے ذریعے خطے میں بالادستی اور زمینی حقائق تبدیل کرنے کے در پے ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانیت سوز کاروائیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت نے پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کیلئے ایک منظم مہم شروع کررکھی ہے ۔

بھارت کی پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ مہم اور دہشت گردی کی پشت پناہی پر پاکستانی رپورٹ سے واضح ہے کہ بھارت ہمارے ملک میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے ۔ حال ہی میں یورپی یونین کی عالمی شہرت یافتہ ” ڈس انفو لیب “نے جعلی غیر سرکاری تنظیموں اور جعلی ویب سائٹس کے ذریعے اقوام متحدہ اور یورپی پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کیلئے پاکستان کو بدنام کرنے کی چالوں کا پردہ فاش کیا ۔ اسی طرح ،ایک اعلیٰ بھارتی عہدیدار نے بھی ایف اے ٹی ایف کے تکنیکی فورم کو سیاست زدہ کرنے اور پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کے لیے بھارتی اثر و رسوخ استعمال کرنے کا اعتراف کیا ۔اس تناظر میں پاکستان اور خطے کے لیے اہم سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ آج ہم خود سے یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ کیا موجودہ بھارتی حکومت ایک ذمہ دار اکائی ہے یا پھر ایک شدت پسند ہندوتوا راج کہ جس پر اعتماد نہیں کیا جانا چاہیے؟۔بھارتی فوجی تسلط کے خلاف کشمیر کی مقامی جدوجہد آزادی کو ہمیشہ سے عوامی حمایت حاصل رہی ۔ اپنی حالیہ کارروائیوں کی وجہ سے متشدد ہندوستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی رہی سہی حمایت بھی کھو چکا ہے۔ظلم و ستم اور ریاستی بربریت کے مقابلے میں کشمیریوں نے ہمیشہ بہادری ، غیر متزلزل عزم اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ۔ کشمیری سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت تسلیم شدہ سیاسی حقوق کے حصول تک بھارتی تسلط کے خلاف نبرد آزما رہیں گے۔پاکستان کشمیریوں کی حالت زار پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتا رہے گا ۔ میں اقوام عالم سے اپیل کے ساتھ ساتھ انہیں اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا چلوں کہ وہ کشمیری عوام اور اقدارِ انسانیت کے تحت کشمیریوں کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دینے کے پابند ہیں۔ کشمیر یوں کے ساتھ کیا گیا حقِ خود ارادیت کا وعدہ آج بھی ادھورا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کو بھارتی تسلط سے آزادی نصیب ہوگی، انشاء اللہ!