ہمہ جہت ترقی کے لئے طویل المدت منصوبہ بندی ضروری ہے ، ہماری پوری کوشش ہے کہ ترقی کا ایسا نظام وضع کریں جس میں کوئی طبقہ اور علاقہ محروم اور پیچھے نہ رہے، وزیراعظم عمران خان

ہمہ جہت ترقی کے لئے طویل المدت منصوبہ بندی ضروری ہے ، ہماری پوری کوشش ہے کہ ترقی کا ایسا نظام وضع کریں جس میں کوئی طبقہ اور علاقہ محروم اور پیچھے نہ رہے، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔ :وزیراعظم عمران خان نےہمہ جہت ترقی کے لئے طویل المدت منصوبہ بندی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئےکہاہے کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ ترقی کا ایسا نظام وضع کریں جس میں کوئی طبقہ اور علاقہ محروم اور پیچھے نہ رہے ،سارے ملک کو یکساں طورپر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں ،صحت کارڈکاا جراءاور مواصلاتی را بطوں کا فروغ بہت بڑی تبدیلی ہے۔

ماضی میں شاہراہیں پیسے بنانے کے لئے تعمیر کی جاتی تھیں، 2013 کے مقابلہ میں 2021 میں جو سڑکیں بنیں ان کی لاگت کم ہے، سڑکوں کی تعمیر میں ایک ہزار ارب روپے کی کرپشن کی گئی، ایک مقروض ملک میں اتنی بڑی کرپشن ہو رہی تھی، ریاست مدینہ کی طرز پر ملک کی تعمیر کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کو ہکلہ ۔ڈی آئی خان موٹروے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں مواصلات کی وزارت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ وفاقی وزیر مواصلات اور ان کی وزارت ، بالخصوص نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ آج ہم نے ہکلہ ۔ ڈی آئی خان موٹروے کا افتتاح کیا ، اس شاہراہ سے ملک کو بہت فائدہ ہو گا۔ ماضی میں ترقی صرف بڑے شہروں اور لاہور تک محدود تھی۔ مشرقی راہداری پر توجہ دی گئی ، اسی طرف زیادہ ترقی ہوئی۔ باقی علاقوں کو نظر انداز کیا گیا۔ ملک طویل المدت منصوبہ بندی سے تعمیر ہوتے ہیں۔

چین نے آئندہ 30 سالوں کی حکمت عملی بھی وضع کر رکھی ہے اور مستقبل کا روڈ میپ بنا رکھا ہے ۔ترقی کے لئے یہ ضروری ہے کہ سارے ملک کو یکساں طورپر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں ۔ اگر طویل المدت منصوبہ بندی نہ کی جائے تو کچھ علاقے تو ترقی کی دوڑ میں آگے نکل جاتے ہیں لیکن باقی ملک پیچھے رہ جاتا ہے، اس سے یہ ہوتا ہے کہ تھوڑے سے لوگ بہت امیر ہو جاتے ہیں اور اکثریت غریب رہ جاتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے ساری ترقی پذیر دنیا کا یہی مسئلہ ہے کہ کچھ لوگ بہت امیر اور باقی غریب رہ جاتے ہیں۔ ایک دو علاقوں پر زیادہ سرمایہ کاری کی جاتی ہے جبکہ باقی علاقے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کبھی بھی کوئی ملک اس طرح ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 60 کی دہائی میں پاکستان کے پلاننگ کمیشن نے زبردست منصوبہ بندی کی ، انہوں نے طویل المدت حکمت عملی اختیار کی۔ 60 کی دہائی میں پاکستان کی ترقی کے لئے بڑ ےبڑے منصوبے بنے۔ اس کے بعد کبھی اس طرح کی طویل المدت حکمت عملی نہیں اختیار کی گئی۔

ہکلہ ۔ ڈی آئی خان موٹر وے سے ان علاقوں کو آگے بڑھنے میں مدد ملے گی جو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ ان علاقوں کے لوگ پسماندہ اس لئے رہ گئے کیونکہ ان پر توجہ نہیں دی گئی اور ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں کیاگیا۔پسماندہ علاقوں میں جس کا معیار زندگی بھی بہتر ہو جاتا ہے وہ بڑے شہروں میں جا کر رہنا شروع کر دیتا اور اپنے بچوں اور خاندان کو بھی بڑے شہروں میں منتقل کر لیتا ہے کیونکہ وہاں تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات کی فراہمی بہتر ہوتی ہیں جس کی وجہ سے پسماندہ علاقے مزید نیچے چلے گئے۔

جب چھوٹے علاقوں سے ٹیلنٹ بڑےشہروں میں منتقل ہو جاتا ہے تووہ ترقی کی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جاتے ہیں ۔سی پیک کی مغربی راہداری کے پہلے مرحلے کی تعمیر مکمل ہونے سے آئندہ سالوں میں اس علاقے پر زبردست اثرات مرتب ہو ں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہکلہ ۔ ڈی آئی خان موٹر وے کی تعمیر سے مسافت کا وقت کم ہو جائے گا اور ڈی آئی خان کا 7 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے کا رہ جائے گا،علاقے میں ترقی و سہولیات کی فراہمی ہو گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے صحت کارڈ کااجرا کیا ہے۔ پہلے میانوالی ، ڈیرااسماعیل خان جیسے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو علاج معالجے کے لئے بڑے شہروں میں جانا پڑتا تھا اور کئی بیچارے مریض راستے میں ہی دم توڑ جاتے تھے۔ پنجاب کے ہر خاندان کو مارچ تک ہیلتھ کارڈ مل جائے گا جس سے ان کو 10 لاکھ روپے تک کی ہیلتھ انشورنس حاصل ہو گی۔ اب میانوالی ، ڈی آئی خان جیسے پسماندہ علاقوں میں بھی پرائیویٹ ہسپتال بنیں گے۔ کیونکہ لوگوں کے پاس جب اپنا علاج کرانے کے لئے تو ہر جگہ پرائیویٹ ہسپتال بھی بنیں گے۔