پی ٹی آئی کے سینئر وائس چیئرمین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ٹنڈوجام میں جلسہ سے خطاب

سندھ کے افق پر ایک نئی تبدیلی کے بادل منڈلا رہے ہیں، ایک نیا سیاسی سیلاب امڈتا دکھائی دے رہا ہے، شاہ محمود قریشی

پی ٹی آئی کے سینئر وائس چیئرمین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ٹنڈوجام میں جلسہ سے خطاب

حیدرآباد۔ :پاکستان تحریک انصاف کے سینئر وائس چیئرمین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سندھ کے عوام کے حالات نہیں بدلے، جب تک وہاں کے رہنے والے ایسا نہ چاہیں گے کوئی باہر سے آکر حالات نہیں بدل سکتا ۔ سندھ کے افق پر ایک نئی تبدیلی کے بادل منڈلا رہے ہیں، ایک نیا سیاسی سیلاب امڈتا دکھائی دے رہا ہے۔وزیراعظم جلد حیدرآباد آکر سندھ کے عوام کو حیدرآباد تا سکھر موٹر وے کا تحفہ دیں گے، لوگوں نے 15 سال پیپلز پارٹی کو آزماکر دیکھ لیا ہے ایک موقع پی ٹی آئی اور عمران خان کو بھی دیں۔

یہ باتیں انہوں نے سندھ حقوق مارچ کے سلسلے میں ٹنڈوجام میں ایک پرہجوم جلسہ سے اپنے خطاب میں کیں ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اپنے حالات کو بدلنا چاہتے ہیں تو اسکا عزم کرنا ہوگا، کوئی باہر سے آکر حالات نہیں بدلے گا، تبدیلی تب آئے گی جب آپ فیصلہ کرلیں گے، آپ مزید طوفان بدتمیزی برداشت نہیں کریں گے اور فیصلہ کرلیں گے کہ آپ اپنا استحصال ہونے نہیں دیں گے، انہوں نے کہا کہ سندھ کا بیٹا ہو یا بیٹی چاہے کہیں بھی رہتے ہوں تبدیلی وہ لائیں گے، اگر آپ پاکستان تحریک انصاف کو حکومت میں آنے کا موقع دیں گے تب ہی تبدیلی آئے گی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میرا 36 سالہ سیاسی تجربہ یہ بتارہا ہے کہ سندھ کے افق پر ایک نئی تبدیلی کے بادل منڈلا رہے ہیں، میں رحمت کی بارش کا نہ صرف منتظر ہوں بلکہ ا س کے لئے دعاگو ہوں، امید ، نئے پاکستان ، باوقار اور خوشحال سندھ کی نئی بارش سندھ کے پیاسے کھیتوں کو سیراب کرے گی۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایک نیا سیاسی سیلاب امڈتا دکھائی دے رہا ہے، اگر میں بلاول زرداری ہوتا اور سندھ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ دیکھ رہا ہوتا تو میرا سیاسی فیصلہ یہ ہوتا تو میں فوری لانگ مارچ ختم کرکے واپس سندھ میں آجاتا کیونکہ میری نگاہ دیکھ رہی ہے کہ سندھ کے سیاسی بند میں شگاف پڑ گیا ہے

اور یہ پھیلتا جارہا ہے، جب شگاف حد سے زیادہ پھیل جائے تو اس پانی کو باندھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مجھے سندھ میں تحریک انصاف کا جو نیا سمندر دکھائی دے رہا ہے ، باندھ لو دیر نہ ہوجائے، کہیں یہ نہ ہو کہ تم اسلام آباد کے ہوجاؤ اور سندھ کا کوئی اور ہوجائے۔ شا ہ محمود قریشی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے لوگوں کی شکایتیں سننے کو مل رہی ہیں کہ انہیں بھی حق نہیں مل رہے، اگر سندھ کا پورا حق سندھ کے عوام کو مل رہا ہوتا تو آج اس حقوق مارچ کی ضرورت نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے 15 سال پیپلز پارٹی کو دیئے ،

اگر یہ مجبوری تھی تو خیبر پختونخوا، پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان نے یہ مجبوری ختم کردی صرف سندھ ہی مجبور رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ آپ کا ہے اور مجبوری بھی آپ اپنے ووٹ کی طاقت سے ختم کرسکتے ہو، آپ نے 15 سال مسلسل پیپلز پارٹی کو اقتدار دیا لیکن حقوق نہیں ملے، آج ایک فیصلہ کرلیں صرف پانچ سال عمران خان کو دیں پھر دیکھیں کہ سندھ تبدیل ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، اگر آپ نے پندرہ سال پیپلز پارٹی کو آزمایاہے تو پانچ سال عمران خان اور تحریک انصاف کو بھی موقع دیں،

پھر فیصلہ کرلینا کہ وزن کہاں ہے، اگر مطمئن ہوں تو پھر موقع دینا نہ ہو تو پھر آپ آزاد ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم حیدرآباد کے لوگوں کو ہیلتھ کارڈ دینا چاہتے ہیں لیکن حکومت سندھ رکاوٹ بنی ہوئی ہے، اگر حکومت سندھ یہ رکاوٹ ہٹائے تو عمران خان کل اعلان کرنے کو تیار ہے، انہوں نے کہا کہ جو اس کے اختیار میں ہے وہ کرے گا، اٹھارہویں ترمیم کے بعد ہاتھ بندھے ہوئے ہیں کچھ مجبوریاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان عنقریب حیدرآباد آئیں گے اور آپ کو حیدرآباد تا سکھر موٹر وے کا تحفہ دیں گے ،

وزیراعظم حیدرآباد پہنچ کر اس کا سنگ بنیاد رکھیں گے، انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام میں پیپلز پارٹی رکاوٹ بنی ہوئی تھی، عمران خان نے قانون سازی کے ذریعے اسمبلی میں بل پاس کرواکے حیدرآ باد کو ایک نئی یونیورسٹی کا تحفہ دیا ہے۔