پاکستانی ڈاکٹروں کی تشخیص

ہم روانی میں ایسے ایسے ناقابل یقین کام کرجاتے ہیں جس پر پوری عالمی برادری انگشت بدنداں رہ جاتی ہے

پاکستانی ڈاکٹروں کی تشخیص

پاکستانی عوام پر اللہ کی جتنی مہربانیاں ہیں ہم ان پر شکر بھی ادا نہیں کرسکتے، اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہم روانی میں ایسے ایسے ناقابل یقین کام کرجاتے ہیں جس پر پوری عالمی برادری انگشت بدنداں رہ جاتی ہے، جیسے حال ہی میں پور ی دنیا کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کا شکار ہے جو تقریباً ایک لاکھ انسانوں کو کھا چکی ہے اور پوری دنیا کے سائنس دان اس کا توڑ دریافت کرنے میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک انہیں کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ اصولی طور پہلے سائنس دانوں کو اس پر تحقیق کرنی چاہئے کہ کرونا کا طریقہ واردات کیا ہے یہ پہلے انسانی جسم کو کیسے متاثر کرتا پھر کس انداز میں اپنے پَر پھیلاتا ہے۔

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس ضمن میں ڈاو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی ایک ٹیم نے اس نکتے پر کام کیا اور محنت شاقہ اور دماغ سوزی کے بعد اس ٹیم نے انسانوں میں ایسی دو جینیاتی تبدیلیاں نوٹ کی ہیں جن کے حامل افراد قدرتی طور پر یعنی Sars-Cov-2کورونا وائرس سے محفوظ ہوسکتے ہیں۔ ڈاو¿ یونیورسٹی میں واقع ڈاو¿ کالج آف بایو ٹیکنالوجی کی ڈاکٹر نصرت جبیں، فوزیہ رضا، ثانیہ شبیر، عائشہ اشرف، انوشہ امان اللہ اور بسمہ عزیز نے ادارے کے نائب پرنسپل ڈاکٹر مشتاق حسین کی نگرانی میں یہ اہم تحقیقی کام کیا ہے۔ اس تحقیق کی روداد جرنل آف میڈیکل وائرلوجی کی حالیہ اشاعت میں شائع ہوئی ہے۔ٹیم نے ایک ہزار انسانی جینوم کی ڈیٹا مائننگ کرکے معلوم کیا کہ اے سی ای ٹو(اینجیو ٹینسن کنورٹنگ انزائم ٹو) نامی جین میں ہونے والے دو تغیرات S19P اور E329G کورونا کی راہ میں مزاحم ہوسکتے ہیں کیونکہ کورونا کا باعث بننے والا سارس کووڈ ٹو انفیکشن کے ابتدائی مرحلے میں ACE2 (اینجیو ٹینسن کنورٹنگ انزائم ٹو) سے ہی جاکر جڑتا ہے۔ کیونکہ وائرس اور بیماریوں کا آغاز سالماتی سطح پر ہوتا ہے اور کورونا وائرس بھی سب سے پہلے پروٹین پر حملہ آور ہوتا ہے۔

ڈاو یونیورسٹی کی ٹیم نے ہزاروں افراد کے ڈیٹا پر مشتمل آن لائن ڈیٹا سے استفادہ کیا اور اس کے لیے صرف اے سی ای ٹو جین اور پروٹین تک ہی اپنی تحقیقات کو محدود رکھا۔ اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ شاید اسی پروٹین میں جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے انسان دیگر وائرل انفیکشن سے بھی محفوظ رہ سکتا ہے۔جبکہ دوسری جانب ریسرچ ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر مشتاق حسین نے بتایا کہ ڈیٹا مائننگ میں جن انسانی جینوم کی ڈیٹا مائننگ کی گئی ان میں چین، لاطینی امریکا اور بعض یورپی ممالک شامل تھے، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ تجزیے میں اے سی ای ٹو میں مذکورہ تغیرات کی شرح نہایت کم پائی گئی یاد رہے کہ مذکورہ ممالک کورونا وائرس سے بری طرح متا ثر ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ کورونا تناظر میں کسی بین الاقوامی اہمیت کے جریدے میں شائع ہونے والا یہ پہلا تحقیقی مقالہ بھی ہے جو نہ صرف پاکستان میں کورونا پر ہونے والی معیاری تحقیق کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس کے علاج کے لیے جینیاتی تحقیق کے نئے پہلو بھی اجاگر کررہا ہے۔اس طرح دنیا کے کئی ممالک میں کورونا وائرس کے پھیلاو کی کم یا بہت زیادہ رفتار کو بھی سمجھنے میں مدد ملے گی اور دوسری جانب اس پر تحقیق اور معالجے کی نئی راہیں بھی کھلیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ایسی بیماری کا علاج دریافت کرنا ہو جو نئی نئی آئی ہو اور جس کے بارے میں دنیا کا علم محدود ہو اور جو لاعلاج محسوس ہوتی ہو تو سب سے پہلے اس بات کا پتہ لگانا لازمی ہوتا ہے کہ یہ بیماری آئی کیسے، انسانی جسم کے کون سے خلیات یا جزیات متاثر ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ بیماری حملہ آور ہوتی ہے اب جیسے کووڈ 19 یعنی کرونا وائرس کا تعلق ہے ابھی تک انسانوں کو یہ تو معلوم تھا کہ اس وائرس کا آغاز چین سے ہوا لیکن انسانی جسم میں ایسی کونسی جنیاتی تبدیلی واقع ہوئی ہے جس بنا پر یہ جرثومہ نہ صرف حملہ آور ہوا بلکہ اس انداز میں حملہ آور ہوا کہ دنیا کو اتنی لاشیں دے گیا کہ بہت سے ملکوں میں تدفین کی جگہ بھی نہیں رہی۔

اس ضمن میں ڈاکٹر مشتاق حسین نے عوام کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کووڈ 19 سے خوف زدہ ہوکر احتیاط کررہے ہیں تو یہ معقول بات ہے لیکن اس کے خوف کو حاوی کرکے بہت گھبرانے سے فائدے کی بجائے نقصانات بھی ہوسکتے ہیں۔ اس ضمن میں ہمیں بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے سائنس دانوں نے یہ تو معلوم کرلیا ہے کہ یہ جرثومہ ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے اور اس کے لئے دو افراد کا سینے لگنا یا ہاتھ ملانا کافی ہوتا ہے جبکہ اگر کسی مریض نے کسی جگہ کو چھوا ہو اور اس جگہ کو صحت مند انسان چھولے تو بھی یہ وائرس اس دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتا ہے اس کی مثال یہ ہے کہ کرونا کے شکار ایک شخص نے کسی دروازے کا ہنڈیل پکڑ کر دروازہ کھولا تو اب جب کوئی صحمند انسان اس ہینڈل کو پکڑ کر دروازہ کھولے گا تو یہ جرثومہ اس میں داخل ہوجائے گا، اسی لئے ہمار ڈاکٹر صاحبان عوام کو سوشل میل ملاپ سے روک رہے ہیں کیونکہ کسی بھی بیماری کی بات ہو یہ صرف دو انسانوں کے آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے سے بھی لاحق ہوسکتی ہے، لیکن اب اس کا کیا کریں کہ ہمارے عوام کسی خطرے کو خطرہ ہی نہیں سمجھتے اور اپنی روٹین کی زندگی گزارتے رہتے ہیں لیکن جب بیماری کا شکار ہوجائیں تو پھر انہیں عقل آتی ہے کہ انہوں نے جو کیا وہ غلط کیا لیکن پھر یہ محاورہ ہی ذہن میں آتا ہے کہ ” اب پچھتاوے کیا ہووت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت“۔ اس وقت ہمارے عوام کا بھی یہی حال ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، ڈاکٹر اور دیگر صاحبان علم مسلسل چیخ چلا رہے ہیں کہ عوام گھروں میں بیٹھیں حتی کہ نماز کی ادائیگی کے لئے بھی مساجد میں نہ جائیں اور یہ صرف حکومت کا حکم نہیں بلکہ علمائے دین کے فتاویٰ بھی ہیں اور اس ضمن میں کئی احادیث بھی موجود ہیں کہ ایک بار حضور نے فرمایا کہ اگر بارش ہو تو لوگ مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لئے نہ آئیں بلکہ گھروں پر ہی نماز ادا کرلیں۔

بہرحال ہم بات کررہے تھے کرونا وائرس کی تو اب جب قوم کی ہونہار بیٹیوں نے یہ معلوم کرلیا ہے کہ کرونا وائرس جسم کے کسی حصے پر حملہ آور ہوجائے تو انسانی جسم میں ایسی دوتبدیلیاں ہوتی ہیں جن کے حامل افراد قدرتی طور پرSars-Cov-2 یعنی کورونا وائرس سے محفوظ ہوسکتے ہیں، اب ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ مذکورہ تبدیلیاں انسانی جسم میں کیسے پیدا کی جائیں جس دن یہ معلوم کرلیا اس دن ہم اس موذی مرض پر قابو پالیں گے اور ہمیں یقین ہے کہ قوم کے ہونہار بیٹیوں نے یہ بھی معلوم کرلیا ہوگا اور بہت جلد وہ ایسی دوا مارکیٹ میں لے آئیں گی جو ان دو تبدیلیوں کی موجب ہو اور دنیا کے انسانوں کو اس موذی اور جان لیوا مرض سے نجات مل جائے۔