بےنامی جائیدادوں کے بعد بےنامی کاروں کےاسکینڈل کا انکشاف

ان گاڑیوں کی مالیت اربوں روپے بتائی گئی ہے ۔جبکہ ایک شناختی کارڈ پر درجنوں گاڑیاں منگوانے والوں نے انکم ٹیکس کی مد میں ایک روپیہ بھی قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا

بےنامی جائیدادوں کے بعد بےنامی کاروں کےاسکینڈل کا انکشاف

لاہور : فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر) نے بے نامی جائیدادوں کےبعد بے نامی کاروں کے اسکینڈل کا انکشاف کیا ہے ۔ اس سکینڈل میں گاڑیوں کے بڑے بڑے شو رومز کے مالکان نےمبینہ طور پر گاڑیوں کی مختلف کمپنیوں سے ایک شناختی کارڈ پر درجنوں گاڑیاں منگوا کر فروخت کر دیں جبکہ جن شناختی کارڈ کے ذریعے گاڑیاں منگوائی گئیں وہ افراد ایف بی آر کے ٹیکس گزار ہی نہ تھے ۔ ان گاڑیوں کی مالیت اربوں روپے بتائی گئی ہے ۔جبکہ ایک شناختی کارڈ پر درجنوں گاڑیاں منگوانے والوں نے انکم ٹیکس کی مد میں ایک روپیہ بھی قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا ۔

ذرائع نے بتایا کہ ملک بھر میں اس نوعیت کے سینکڑوں واقعات ہو چکے ہیں ،جبکہ بے نامی کار مالکان نے ہزاروں گاڑیاں خرید کر آگے فروخت بھی کر دی ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے اس معاملے کو فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی ( ایف آئی اے) کے سپرد کرنے کافیصلہ کیا ہے ۔ اس بارے میں ایف بی آر کے ایک سیئنر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ بے نامی کاروں کے سکینڈل کا انکشاف کے بعد ان افراد کو نوٹس جاری کئے گئے جن کے نام پر گاڑیاں بک کرائی گئیں تھیں ۔

ان میں سے اکثر کے شناختی کارڈ جعلی پائے گئے ،جسکی وجہ سے ایف بی آر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بے نامی کاروں کے مالکان سے ٹیکس بھی وصول کیا جارہا ہے ۔لیکن جن افراد کے شناختی کارڈ ہی جعلی تھے ان کے کیس ایف آئی اے کو بھجوائے جا رہے ہیں ۔کیونکہ اس میں بنک کے افسران بھی ملوث ہو سکتے ہیں ۔ بنک افسر کی مرضی کے بغیر جعلی شناختی کارڈ پر پے آرڈر نہیں بن سکتا ۔

لاہور کار ڈیلرز فیڈریشن کے صدر شہزادہ سلیم نے بتایا کہ اس طرح کے واقعات ہمارے بھی علم میں آئے تھے ،جس کے بعد لاہور کار ڈیلرز فیڈریشن کی طرف سے ایک سرکلر جاری کیا گیا کہ آئندہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جب تک شناختی کارڈ ہولڈر خود نہ آئے اس کے نام پر کوئی گاڑی بک نہ کی جائے ۔جبکہ نادرہ سے شناختی کارڈ کہ تصدیق بھی لازمی قرار دی گئی ہے ۔

انہوں نے بتا یاکہ ماضی میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہے ہیں ، لیکن اب لاہور کار ڈیلرز فیڈریشن کی طرف سے جاری سرکلر پر سختی سے عمل ہو رہا ہے ۔  فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی ( ایف آئی اے) کے ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری احمد نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ فی الحال ایف بی آر کی طرف سے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا کوئی مراسلہ موصول نہیں ہوا ۔جیسے ہی کوئی احکامات موصول ہوئے تحقیقات شروع کر دی جائیں گی ۔