امریکا کا کورونا ویکسین کے منصوبے میں عالمی تعاون مسترد

میڈیا رپورٹس کے مطابق 170سے زائد ممالک کورونا وائرس ویکسینز عالمی رسائی (سی او وی اے ایکس) سہولت میں شرکت کے لیے مذاکرات کررہے ہیں، یہ محفوظ اور مؤثر ویکسین ممالک کو فراہم کرنے کے لیے ویکسین تیار کرنے والوں کے ساتھ کام کرنے کا عالمی اقدام ہے

امریکا کا کورونا ویکسین کے منصوبے میں عالمی تعاون مسترد

امریکا نے عالمی وباء کورونا وائرس کی ویکسین کے منصوبے میں عالمی تعاون مسترد کردیا۔ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ امریکا کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے، پیدا کرنے اور اس کی برابر تقسیم میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ساتھ عالمی کوششوں میں شامل نہیں ہوگا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق 170سے زائد ممالک کورونا وائرس ویکسینز عالمی رسائی (سی او وی اے ایکس) سہولت میں شرکت کے لیے مذاکرات کررہے ہیں، یہ محفوظ اور مؤثر ویکسین ممالک کو فراہم کرنے کے لیے ویکسین تیار کرنے والوں کے ساتھ کام کرنے کا عالمی اقدام ہے۔

تاہم وائٹ ہاس کے ترجمان ’جڈ ڈیرے‘ نے منگل کے روز کہا تھا کہ امریکا ڈبلیو ایچ او کی وجہ سے اس معاملے میں شرکت نہیں کرے گا اور کثیر الجہتی تنظیموں کی جانب سے دبا میں نہیں آئے گا۔ ایک ڈاکٹر اور کانگریس کے رکن ایمی بیرا نے بدھ کے روز ٹوئٹ کیا تھا کہ انتظامیہ کا تنگ نظری پر مشتمل ایک فیصلہ ہماری عالمی وبا سے نمٹنے کی اہلیت میں مزید رکاوٹیں ڈالے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنہا آگے بڑھنے کی سوچ نے ملک کو ویکسین نہ ملنے کے خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ طبی ماہرین پریشانی کا شکار ہیں کہ اگر امریکا اپنے شہریوں کے لیے سب سے پہلے انتہائی مؤثر ویکسین تیار کرکے تقسیم کرتا ہے تو دوسرے ممالک کی اس ویکسین تک رسائی نہ ہونے کے باعث کئی امریکی شہری درآمدی بیماری کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔