دو سال میں جو ہوا وہ ہوا، اب آگے دیکھنا ہو گا، عبدالرزاق داؤد

انہوں نے کہا کہ اب ہمیں گائیڈنگ پرنسپل بنانا ہوں گے اور درآمد پر انحصار کم کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک کو مینو فیکچرنگ کی طرف لانا ہو گا، ایکسپورٹ کو بنیاد بنانا ہو گا، ملک میں نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی، سروسز کی برآمد پر توجہ دینا ہو گی

دو سال میں جو ہوا وہ ہوا، اب آگے دیکھنا ہو گا، عبدالرزاق داؤد

وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے کامرس و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد کہتے ہیں کہ دو سال میں جو ہوا وہ ہوا، اب آگے دیکھنا ہوگا۔ وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے کامرس و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے لاہور چیمبر کا دورہ کیا، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ہمیں گائیڈنگ پرنسپل بنانا ہوں گے اور درآمد پر انحصار کم کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک کو مینو فیکچرنگ کی طرف لانا ہو گا، ایکسپورٹ کو بنیاد بنانا ہو گا، ملک میں نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی، سروسز کی برآمد پر توجہ دینا ہو گی۔

 

عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ 41 فیصد خام مال کی کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور درآمدی ڈیوٹی زیرو ہے، گزشتہ برسوں کے دوران برآمدات میں کمی ہوئی جس پر ڈیوٹیاں ختم کر دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ای سی سی میں ایڈیشنل کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹی پر بات ہو گی، مختلف شعبوں کے خام مال کی درآمدی ڈیوٹی مرحلہ وار کم کی جائے گی۔ وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر نے کہا کہ فی الحال درآمدی مال پر ایڈہاک ریلیف دیا جا رہا ہے، اگلے تین سال کے لیے ریگولیٹری اور کسٹم ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افریقہ میں برآمدات کو بڑھانے پر توجہ ہے، برآمدات بڑھ رہی ہیں، ازبکستان کے نائب وزیرِ اعظم پاکستان آ رہے ہیں،جن کے دورے کے دوران مختلف ایم او یو پر دستخط ہوں گے۔ عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ افغانستان سے ہماری ٹریڈ کم ہو رہی ہے، پاکستان کا کوئی بینک ایران کو ہاتھ لگانے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں پاکستانی چاول پسند کیا جاتا ہے، چاول کی برآمد کرنے والوں کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالتے ہیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ جی ایس پلس کا درجہ دسمبر 2022ء تک پاکستان کو ملا ہے، اس سے مزید استفادے کے لیے تاجروں کے ساتھ پلاننگ کر رہے ہیں۔