کرونا وائرس کے بعد کی دنیا

دنیا کی سپر پاور سے لے کر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک

کرونا وائرس کے بعد کی دنیا

ہر آ نے والے دن کرونا وائرس کی تباہ کاریاں بڑھتی جارہی ہیں دنیا کی سپر پاور سے لے کر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ہر ایک کے لئے یہ وبا چیلنج بن چکی ہے جہاں انسانی جانوں کی بقا کا مسئلہ ہے وہاں دنیا بھر کی معیشتیں اور معاشرے اس کے اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں گوبل ویلج کی تھیوری تبدیل ہو کر علاقا ئی جیلوں کا منظر پیش کر رہی ہے یہ وبا کب تک چلے گی اس کے اثرات کتنے ہولناک ہوں گے دنیا اس سے نبرد آ زما ہونے کے لیے لاکھوں جشن کر رہی ہے لیکن حتمی بات نہیں کی جا سکتی یہ امر خوش آ ئند ہے کہ جہاں سے اس وبا نے جنم لیا وہاں اس پر قابو پا لیا گیا ہے لیکن یہ بھی کو ئی ضروری نہیں کہ اس وبا کا جنم چین سے ہی ہو ا ہو ہو سکتا ہے کہ اس کی پیدائش کہیں اور ہو ئی لیکن یہ غور دار پہلے چین میں ہو گئی ہو لیکن اصل سوال یہ ہے کہ چین نے تو اس پر کنٹرول پا لیا لیکن دنیا میں یہ وبا تیزی کے ساتھ بڑ ھتی جا رہی ہے اور انسانوں کو نکلنے کی رفتاروں بھی اضافہ ہو رہا ہے ماسوائے چین کے کو ئی دوسرا ملک کی شدت پر قابو نہیں پا سکا اس کی تبا ہ کا ریوں سے پوری دنیا میں پھونچال آ یا ہو ا ہے دنیا تیزی کے ساتھ قید خانے میں تبدیل ہو رہی ہے ، ما ہرین کا خیال ہے کہ اس وبا پر مکمل قابو پانے میں آ ڑھائی سے تین سال لگ سکتے ہیں اس لیے دنیا کو لمبے عرصے کی منصوبہ بند ی کر نا ہو گی دنیا اس پر اگر فوری قابو بھی پا لے تو اس کی تبا ہ کاریوں کے اثرات پر کئی سالوں تک قابو نہیں پا یا جا سکے گا لہذا ایک تو دنیا زیادہ عرصہ تک لاک ڈائون کی پوزیشن میں نہیں رہ کستی اس لیے دنیا کو کرونا کے ساتھ زندہ رہنے کے لیے ایس او پی تیار کر نا ہو ں گے ۔دوسرا جن ملکوں کی اقتصادیات زمین سے جڑی ہوئی نہیں تھی اور ان کے زیادہ تر کاروبار ہوا میں تھے ان کی مشکلات میں اضاجہ ہو ا دنیا کو خیالوں نکل کر زمینی حقائق کی طرف آ نا ہو گا۔ اب خوابوں کی جگہ حقیقتیںفروخت ہو ں گی میرے خیال میں دنیا میں میڈیکل کے شعبے کی مانگ میں بے پنا ہ اضافہ ہو گا اگلے دو تین سال تک میڈیکل شعبہ سے وابستہ کاروبار خوب چمکے گا لہذا جو ملک اس حوالے سے ضرورت کے مطابق اشیاء فراہم کرے گا اس کے پائوں بارہ ہوں گے دوسرا خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے لہذا زرعی ملکوں کے لیے اپنی اجناس کو اچھے داموں فروخت کر نے کے مواقع بڑھیں جس میں نہ صرف دنیا کے کاروبار تبدیل ہو جائیں گے بلکہ طریقہ کار اور نہ جانے کیا کچھ تبدیل ہو جائے گا دنیا کے مختلف ملکوں کی معاشرت بھی متاثر ہو گی پاکستان چونکہ ایک ترقی پذیر ملک ہے ہم نے پچھلے 40سالوں میں مانگ تانگ کر امور مملک چلائے ہیں ہمارا انحصار قرضوں پر رہا ہے ہم نے اپنے وسائل پر ت وجہ نہیں دی ہماری صنعت بھی توانا ئی بحران کی بھینٹ چڑھ گئی زراعت پر بھی ہم زیادہ توجہ دے پا ئے اور حالت ہماری یہ ہو گی کہ ہم ایک کنزیومر مارکیٹ بن کر رہ گئے اب پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ایک موقع دیا ہے ان برے حالات میں ہم ''میڈ ان پاکستان ''کی طرف لوٹ سکتے ہیں ہمیں اپنی زراعت ، لائیو سٹاک پر توجہ دینا ہو گی حکومت کی سر پر ستی اور منصوبہ بندی کے ساتھ ہم ایک سال میں اپنی زرعی پیداوار میں 50فی صد اضافہ کر کے پاکستان کی آ دھی آ بادی کو خوشحال کی طرف لا سکتے ہیں اس کے لیے ہمیں کسانوں کو سبسڈی دینا ہو گی واٹر مینجمنٹ کر نا ہو گی ، مقامی سطح پر زرعی مشینری تیا ر کرنے کے لیے انڈسٹری کو قرضے دینا ہو ں گے بجلی گیس کی قیمتیں کم کر نا ہو ں گی اس وقت دنیا میں تیل کی قیمتیںبہت کم ہیں ہمیں اگلے دو تین سال کے لیے تیل ذخیرہ کرلینا چاہیے حالات ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ امپورٹ پر پابندیاں لگا دینی چاہیں بہت زیادہ ضرورت کی اشیا ء امپورٹ کر نے کی اجازت ہو نی چاہیے باقی مقامی سطح پر تیار کی ہو ئی متبادل اشیاء کے استعمال کو فروغ دیا جائے معاشرے کو بھی تبدیل کر نے یہ سنہری موقع ہے ہمیں شام 7بجے تک اپنی مارکیٹیںاور کاروباری مراکز بند کرنے کا مستقل حکم جاری کر نا چاہیے اس سے توانائی کی بچت ہو گی لو گ صبح جلدی اٹھیں گے اور رات کو جلدی سونے کی عادت پڑے گی لاک ڈائون نے حکومت کی رٹ مضبوط کی ہے لہذا حکومت کے پاس موقع ہے کہ وہ مستقبل کی منصوبہ بندی کر کے لوگوں کی عادتیں تبدیل کر سکتی ہے۔