موجودہ حکومت موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رونما ہونے والی آفات کے نقصانات کو کم کرنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے، ملک امین اسلم

موجودہ حکومت موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رونما ہونے والی آفات کے نقصانات کو کم کرنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے، ملک امین اسلم

اسلام آباد :گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں کی آبادیوں اور لوگوں کے ذرائع معاش کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رونما ہونے والی قدرتی آفات کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی اور متعلقہ حکومتوں کے مابین سمجھوتہ طے پا گیا۔ اس حوالے سے منگل کو یہاں ایک تقریب میں مختلف معاہدہ جاتی دستاویزات پر دستخط کئے گئے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

لیٹرز آف ایگریمنٹس پر یو این ڈی پی۔پاکستان کے ریزیڈنٹ نمائندہ کے نٹ اوسبے، گلگت بلتستان کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سید ابرار حسین اور خیبر پختونخوا کے سپیشل سیکرٹری برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ عامر سلطان ترین نے دستخط کئے۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ملک امین اسلم نے کہا کہ موجودہ حکومت موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رونما ہونے والی آفات کے نقصانات کو کم کرنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔

انہوں نے ماحولیات کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رونما ہونے والی قدرتی آفات کے خطرات میں کمی لانے کی کوششوں میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے کردار کو سراہا اور کہا کہ موجودہ حکومت اس حوالے سے وزارت موسمیاتی تبدیلی اور دیگر اداروں کو مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے پر شکرگزار ہے۔ ملک امین اسلم نے ملک کے بالائی پہاڑوں پر درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشئیرز کے پگھلنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل کے نتیجے میں گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 3044 نئی جھیلیں وجود میں آئی ہیں۔ اس طرح تقریباً 71 لاکھ کی آبادی ان جھیلوں کے ٹوٹنے کی وجہ سے آنے والے ممکنہ سیلاب جیسے واقعات کے خطرات سے دوچار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تناظر میں یو این ڈی پی اور گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کے مابین نئے معاہدے کے نتیجے میں متعلقہ اداروں اور مقامی لوگوں کی استعداد کار بڑھانے میں مدد ملے گی جس سے وہ قدرتی آفات کے سماجی، معاشی اور ماحولیاتی نقصانات میں کمی لانے کے قابل ہو سکیں گے۔ اس موقع پر گلوف پراجیکٹ (فیز ٹو) کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ایڈیشنل سیکرٹری جودت ایاز نے میڈیا کو بتایا کہ معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام سال 2021 کے دوران گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث رونما ہونے والی قدرتی آفات کے خطرات سے نمٹنے کے لئے استعداد کار بڑھانے کے لئے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گا، اس سلسلے میں محفوظ اور پائیدار انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ موسمی حالات کی مانیٹرنگ اور پیشگی اطلاع کے نظام کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ناگہانی آفات اور ان کے اثرات سے مقامی لوگوں کی زندگی اور ذرائع معاش کو محفوظ بنانے میں مسائل کا سامنا تھا، اب امید ہے کہ اس نئے انتظام سے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور یو این ڈی پی کے تعاون سے متعلقہ اداروں کی جانب سے ان علاقوں میں آفات کےخطرات کے تجزیات، میپنگ اور فارسٹری سرویز کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں ماحولیاتی مسائل کے پیش نظر نیچر پر مبنی حل بھی متعارف کرائے جائیں گے۔ اسی طرح مقامی آبادیوں کو آفات کے خطرات اور ان سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ ان میں کمی لانے کے لئے آگاہی اور تربیت کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے تمام شراکت دار باہمی ہم آہنگی کا مظاہرہ کریں گے