ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا آئی ایم ایف سپرنگ میٹنگز2021 میں تبادلہ خیال

ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا آئی ایم ایف سپرنگ میٹنگز2021 میں تبادلہ خیال

اسلام آباد :عالمی بینک ، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی سالانہ سپرنگ میٹنگز 2021 میں IMF’s Engagement on Social Protection Theکے عنوان پر ایک ویبنار کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو سماجی تحفظ کے فروغ کے حوالے سے پاکستان کا نقطہ نظر پیش کرنے کیلئے مدعو کیا گیا تھا ۔ اس تقریب کا مقصد آئی ایم ایف، ترقیاتی شراکت داروں ، ڈبلیو بی جی اور ممبر ممالک کی سماجی تحفظ کے پروگراموں کے موثر نفاذ، ان کو مستحکم کرنے اور معاشی نقصانات و اصلاحات کے ممکنہ منفی اثرات سے پسماندہ طبقات کو تحفظ فراہم کرنے کی کوششوں کو پیش کرنا تھا ۔تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پاکستان کی سماجی تحفظ پالیسی، اقدامات ، توقعات، درپیش مسائل اور ان سے نمٹنے کیلئے حکومت پاکستان کے عزم پر روشنی ڈالی۔تقریب میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے ہمراہ ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ایم ایف Roger Nord، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف Antoinette Sayeh، سینئرماہر معاشیات آئی ایم ایف Fernanda Brollo ،ماہر معاشیات آئی ایم ایف Brooks Evans اور عالمی بینک کے سینئر کنٹری اکانومسٹ Tanja Goodwin نے شرکت کی ۔ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے Invisible Scaffold کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جو پروگرام کو بہتر طریقے سے چلانے کیلئے ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ احساس کے آغاز کے تقریبا ایک سال بعد دیانت داری اور شفافیت کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کیلئے ایک بڑی کوشش کی گئی ۔ قانونی تقاضوں کے مطابق بورڈ اجلاس، کنفلکٹ آف انٹرسٹ پالیسی، وسل بلوئنگ پالیسی، غلطی دھوکہ دہی اور بدعنوانی کے فریم ورک اور رسک رجسٹر کا نفاذ کیا گیا ۔ بعد ازاں ، انہوں نے بتایا کہ کس طرح مالیاتی، آڈٹ اور اکاءونٹنگ سسٹم کو مستحکم کیا گیا اور سب سے زیادہ یہ کہ احساس گورننس اور دیانت داری پالیسی پر عملد رآمد کتنا اہم تھا ۔

انہوں نے خطرات اور حکمرانی کے طریقہ کار سے باخبر رہنے کیلئے احساس گورننس آبزرویٹری کی تشکیل کا بھی تذکر ہ کیا ۔ انہوں نے بہت سے احساس پروگراموں کے نفاذ کیلئے ڈیجیٹلائزیشن کی اہمیت کی وضاحت کی ۔ ایس ایم ایس کے ذریعے درخواست کے طریقہ کار اور ڈیٹا اینالیٹکس متعدد پروگراموں کے نفاذ کیلئے لازمی تھا ۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ 2019 میں مسابقتی عمل کے بعد نیا بائیومیٹرک ادائیگی کا نظام تشکیل دیا گیا تھا، تاکہ تمام ادائیگیوں کی بائیومیٹرک تصدیق کو یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا گیا اور اس میں اپلی کیشنز، نیٹ ورکس اور ڈیٹا سسٹمز میں بہت سی اصلاحت نافذ کردی گئی ہیں ۔حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے اور وبائی مرض نے معاملات کو مزید خراب کردیا ہے ۔