امریکا میں 800 سے زائد شکاری سانپوں کی تلاش میں نکل پڑے

امریکا میں 800 سے زائد شکاری سانپوں کی تلاش میں نکل پڑے

فلوریڈا کی خاتون اول کیسے ڈی سینٹِس کا کہنا تھا کہ یہ مقابلہ اس لیے اہم ہے کہ شکار کیے جانے والے ہر پائتھون کے سبب یہاں کے مقامی پرندوں، مملیوں اور ریپٹائلز کا ایک شکاری کم ہوگا۔

نیوز ریلیز کے مطابق سال 2000 کے بعد سے ایورگلیڈز کی مرطوب زمین کے ماحول سے 17 ہزار سے زائد پائتھون مارے جاچکےہیں۔ برمیز پائتھون فلوریڈا کا مقامی سانپ نہیں ہے اور اس کی خوراک پرندوں، مملیوں اور دیگر رپٹائلز پر مشتمل ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق پشہ ور اور نو آموز شکاریوں میں  جو سب سے زیادہ سانپ مارے گاان کے لیے  دونوں کیٹیگریوں میں 2500 ڈالرز کا انعام رکھا گیا ہے۔دونوں کیٹیگریوں کے لیے سب سے لمبے پائتھون کے شکار کے اضافی انعامات بھی ہیں۔

قواعد و ضوابط کے مطابق ہر پائتھون مردہ ہو اور اگر سانپ کو وحشی طریقے سے مارا گیا یا مقامی سانپ مارا تو شکاری کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔