کیریئر کونسلنگ کیوں ضروری ہے؟

اگر ہم اس کی تہہ میں جائیں تو ہمیں اس کے بے شمار عوامل نظر آئیں گے، ان میں سے ایک اہم اور بنیادی وجہ نوجوانوں اور طالب علموں کی مناسب کیریئر کونسلنگ نہ ہونا ہے

کیریئر کونسلنگ کیوں ضروری ہے؟

ہماری قوم کے بیشتر نوجوان ساری عمر سوچتے کچھ اور ہیں، کرتے کچھ اور ہیں جبکہ ہوتا ان کے ساتھ کچھ اور ہے۔ یہ وہ اذیت ناک حقیقت ہے اور اس کی وجہ سے نوجوانوں کے خواب یوں ہی بِکھر جاتے ہیں۔ اگر ہم اس کی تہہ میں جائیں تو ہمیں اس کے بے شمار عوامل نظر آئیں گے، ان میں سے ایک اہم اور بنیادی وجہ نوجوانوں اور طالب علموں کی مناسب کیریئر کونسلنگ نہ ہونا ہے۔ ’ کیریئر‘ انگریزی زبان کا لفظ ہے اور اس کے کئی معنی ہیں۔ اس کاایک مناسب ترجمہ ’طرزِ معاش‘ کے طور پر کیا جاسکتا ہے۔’ کونسلنگ‘ بھی انگریزی میں عام استعمال ہونے والا لفظ ہے، جس کے معنی ’رہنمائی‘ یا ’ہدایت‘ کے ہیں یعنی ’’طرزِ معاش کے بارے میں رہنمائی‘‘۔ دوسرے الفاظ میں اِسے ’شعبہ زندگی‘ بھی کہا جاسکتا ہے۔

ہر چند کہ، پاکستان میں طالب علموں کی یونیورسٹیوں تک رسائی بڑھتی جا رہی ہے اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پہلے سے زیادہ افراد داخلہ لے رہے ہیں، لیکن یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ ان لاکھوں طالب علموں میں سے صرف کچھ ہی ایسے ہوتے ہیں، جن کا انتخاب کردہ شعبہ واقعی ان کا پسندیدہ شعبہ بھی ہوتا ہے، نتیجتاً اکثرطالب علم کبھی بھی منتخب کردہ شعبے میں بلند معیار کی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپاتے، جو اس شعبے کا تقاضہ ہوتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ’ کیریئر کونسلنگ‘ کافی اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔

کیریئر کونسلنگ کی ضرورت

موجودہ دور میں تعلیم کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو آسان طریقے سے روزگار کے لیے تیار کرنا ہے کیونکہ فرد سے افراد، افراد سے خاندان اور خاندانوں سے قوم وجود میں آتی ہے۔ فرد جو معاشرہ کی بنیادی اکائی ہے، جب تک وہ خوشحال نہیں ہوگا، کوئی بھی قوم اور ملک خوشحال نہیں ہوسکتا۔ ہمارے ملک میں شعبہ زندگی کے انتخاب کا کوئی مناسب اور واضح (طریقہ) طرز عمل نہیں ہے۔ کوئی طالب علم کسی کے کہنے پر، کسی سے سُن کر یا کسی کو دیکھ کر شعبہ زندگی چُن لیتا ہے اور آدھی زندگی گزارنے کے بعد اسے ادراک ہوتا ہے کہ وہ کوئی اور کام اس سے بہتر طورپر کرسکتا تھا۔ 

اکثر پاکستانی والدین اور بڑے بہن بھائیوں میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے بھتیجوں، بھانجوں اور بہن بھائیوں کو ڈاکٹر، انجینئر، وکیل یااکاؤنٹینٹ وغیرہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس عمل میں وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ معاشی اور معاشرتی کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو اسی شعبے میں جانے دیا جائے، جس کی اس کے دل میں لگن ہو اور اس کی خصوصیات (Skills)اور رجحان (Aptitude)اس شعبے کے ساتھ مطابقت رکھتی ہوں۔

دلچسپیاں، خصوصیات اور رجحان جاننے کے لیے کسی بھی طالب علم سے چند ایک آسان سوال پوچھ کر اس کی مدد کی جاسکتی ہے جیسے کہ آپ کو ریاضی میں زیادہ دلچسپی ہے یا بائیولوجی میں؟ اگر کسی کی پسند ریاضی ہے تو یہ نوجوان ایسے شعبے میں زیادہ کامیاب ہوسکتا ہے، جس میں حساب کتاب کا واسطہ زیادہ ہو۔ بائیولوجی کو پسند کرنے والے طلبا ایسے کام زیادہ بہترکرسکتے ہیں، جن میں تحقیق وغیرہ شامل ہو۔

ہالینڈ میں ریسرچرز نے برسوں کی تحقیق کے بعد شعبہ زندگی کے انتخاب کے لیے ایک ماڈل تیار کیا ہے جوکہ RAISE ماڈل کے نام سے جانا جاتا ہے۔

RAISE ماڈل کیا ہے؟

RAISEماڈل درحقیقت شخصیت کے پانچ مختلف پہلوؤں پر مبنی ہے۔ حقیقت پسند(Realist)، فنکار(Artist)، محقق (Investigative)، سماجی /عمرانی (Social)، مہم جو(Enterprising)۔

حقیقت پسند: یہ عام طور پر وہ لوگ ہوتے ہیں جو خود اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور عملی ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ یہ کشادہ ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں جیسے کھیل، سیاحت، مشین آپریٹر، زراعت وغیرہ۔

فنکار: حساس اور نفیس طبع انسان قدرتی طور پر فنکارانہ صلاحیتوں سے نوازے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انوکھے خیالات کو جنم دیتے ہیں۔ فکری صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں، جیسے لکھاری، فنونِ لطیفہ، میڈیا، کمپیوٹر ڈیزائننگ وغیرہ۔

محقق: یہ معاملہ فہم ہوتے ہیں۔ تحقیق و تلاش کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں، جیسے قانون، ریسرچ، انجینئرنگ، میڈیکل سائنس، کمپیوٹر، انجینئرنگ، بائیولوجی وغیرہ۔

سماجی /عمرانی: دوسروں کی مدد کرنا اور توجہ کا طالب ہوناسماجی شخصیت کی علامت ہے۔ اچھی گفتگو ان کا خاصا ہوتی ہے۔ معلومات کا تبادلہ کرنا، شعور اجاگر کرنا، بھلائی کے کام کرنا، تعلیم و تربیت، نرسنگ، فزیو تھراپی، کونسلنگ، سوشل ورکر، مذہبی رہنما، سیاست، ہیومن ریسورز مینجمنٹ میں ایسے افرادکامیاب رہتے ہیں۔ مہم جو: یہ کاروباری، پُراعتماد اور لفاظی میں مہارت رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو مُتاثر کرنے کی لگن رکھتے ہیں۔ یہ لوگ نتائج دینے والے، دوسروں سے کام لینے والے اور دولت و شہرت کے طالب ہوتے ہیں۔ ان میں ہمت، حوصلہ اور جرأت واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے اور ان کے لیے کاروبار، تجارت، معاشیات، مارکیٹنگ، سیاست اورپروجیکٹ مینجمنٹ جیسے کام بہترین رہتے ہیں۔

اگر آپ کا شمار بھی ایسے نوجوانوں میں ہوتا ہےجو عملی زندگی میں پیچیدگیوںکا شکار ہیں یا عملی زندگی کی شروعات کرنے والے ہیں تو آپ کومثبت اندازِ فکر اپنانے کی ضرورت ہے۔ آپ کی صلاحیتیں اور واضح مقصد کے حصول کی خواہش، آپ کی زندگی کے عملی سفر کو پُرلطف اور آسان بناسکتی ہے۔