اعلی تعلیم اور فن تک غریب اور کم وسائل کے حامل طلبہ کی رسائی آسان بنائی جا رہی ہے: ڈاکٹر انارزاق

 پاکستانی طلبہ دنیا کے ذہین ترین نوجوانوں میں اولین شمار ہوتے ہیں..حکومت پاکستان مثبت اور لائق تحسین پیش رفت کر رہی ہے،ڈاکٹر انارزاق

اعلی تعلیم اور فن تک غریب اور کم وسائل کے حامل طلبہ کی رسائی آسان بنائی جا رہی ہے: ڈاکٹر انارزاق

لاہور:  یونیورسٹی آف ترکی انقرہ کے وائس ریکٹر ڈاکٹر انارزاق نے کہا ہے کہ جدید سماجی و فنی علوم کی ترقی و ترویج میں ہم پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ ہیں اور باہمی تعاون سے اپنے لوگوں کو علم و ہنر سے آراستہ کرکے جدید دنیا کا مقابلہ کرنے کی جدوجہد میں شریک ہیں. انجینئر نگ و تعمیرات، سوشل سائنسز،سماجیات اور آرٹس و ڈیزائن کے شعبوں میں ترکی کے اندر پاکستانی طلبہ کیلئے اعلی و معیاری اور سستی تعلیمی سہولیات دینے سے پاکستان اور ترکی کے تعلقات میں مزید استحکام آئیگا.  سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں طلبہ کو ہر ممکن تعلیمی و دیگرسہولیات دے کر ہم دونوں برادر ملکوں کے مابین عوامی سطح پر اعتماد اور پرخلوص دوستی کے رشتوں کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں.

انہوں نے ان خیالات کا اظہار گذشتہ روزیہاں اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے محافظ ادارے پاکستان کے ایچ ایم و شالان کے سربراہ خالد نواز اور کے ایچ ایم کے نمائندہ اراکین کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی. انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلبہ ذہنی و فکری لحاظ سے دنیا کے ٹاپ اور بہترین نوجوانوں میں شمار ہوتے ہیں جن کیلئے یونیورسٹی آف ترکی انقرہ میں جدید عصری علوم پڑھنے اور سیکھنے کے ایسے مواقع موجود ہیں جن سے استفادہ اٹھا کر وہ اپنے تعلیمی اخراجات بھی بچا سکتے ہیں اور عالمی معیار کی تعلیم سے بھی بہرہ مند ہو سکتے ہیں. ڈاکٹر انارزاق نے کے ایچ ایم کے نمائندوں کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کے ذریعے ترکی میں اعلی اور سستی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے پاکستانی طلبہ کی مکمل راہنمائی اور ضروری تربیت کے عمل سے ترکی میں ان طلبہ کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی اور وہ پوری کامیابی کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کرکے کامیابی کے ساتھ عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں. انہوں نے کہا کہ ہمیں جدید دور میں دنیا کا مقابلہ کرنے کیلئے سماجی علوم کے ساتھ ساتھ انجنینئرنگ و تعمیرات، سائنس اور ٹیکنالوجی اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ دیگر علوم کو پوری توجہ کے ساتھ فروغ دینا ہوگا. پاکستان اور ترکی تعلیم کے اس میدان میں عوامی سطح پر باہمی تعاون کرکے ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں.

 انہوں نے کہا کہ جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ علوم و فنون کے سیکھنے کا عمل بہت مہنگا ہو گیا ہے مگر ہماری کوشش ہے کہ ہم اعلی ترین معیار کے ساتھ جدید مروجہ علوم و فنون کو غریب اور کم وسائل رکھنے والے نوجوانوں سے دور نہ ہونے دیں. انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت پاکستان لائق تحسین اقدامات کر رہی ہے.اس موقع پر کے ایچ ایم کے سربراہ خالد نواز نے کہا کہ پاکستانی طلباء وطالبات کی سہولت کیلئے ہم جڑواں شہروں کے علاوہ لاہور میں بھی ترکی یونیورسٹی کے تعاون سے14  نومبر کو لائیو ویبنار منعقد کر رہے ہیں جس میں ترکی یونیورسٹی کے وائس ریکٹر براہ راست خطاب کریں گے اور دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیوں کی جانب سے طلبہ کی کونسلنگ کی جائیگی. اس ایونٹ میں نوجوان طلباء وطالبات کو مشاورت اور دیگر معلومات و سہولیات بھی دی جائینگی. انہوں نے کہا کہ ہم جدید تعلیم اور ہنر مندی کے فروغ میں حکومت کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اس سلسلے میں حکومتی اقدامات کو کامیاب بنانے کیلئے بھر پور کردار ادا کریں گے تاکہ ہماری نوجوان نسل ہنر مند ہو کر باعزت اور آسان روزگار حاصل کر سکے. یہ اقدامات وزیر اعظم عمران خان کے اعلان کردہ فراہمی روزگار کے پروگرام میں اہم کردار ادا کریں گے.