ملک میں موجودہ آٹے کے بحران کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے: فیاض الحسن چوہان

سندھ حکومت بھی 'سب سے پہلے پاکستان' کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے انتظامی بد عنوانیوں کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تا کہ عام آدمی کو ریلیف دیا جا سکے: وزیرِ اطلاعات پنجاب

 ملک میں موجودہ آٹے کے بحران کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے: فیاض الحسن چوہان

لاہور : وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ ملک میں موجودہ آٹے کے بحران کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا سندھ حکومت بھی 'سب سے پہلے پاکستان' کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے انتظامی بد عنوانیوں کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تا کہ عام آدمی کو ریلیف دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بڑے بھائی کا کردار کرتے ہوئے کے پی کے، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر سمیت پاکستان کی تقریباً 85 فیصد آبادی کی خوراک کی ضروریات پوری کرتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے سیکرٹری فوڈ اسد الرحمان گیلانی اور ڈی جی فوڈ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک پنجاب نے گزشتہ سال اڑتالیس لاکھ ٹن گندم سٹور کی, جبکہ سندھ نے گزشتہ سال موجودہ حکومت کے خلاف سازش کرتے ہو? گندم کی پروکیورمنٹ نہ کر کے مصنوعی بحران پیدا کیا۔  انہوں نے بتایا کہ پاسکو نے گزشتہ سال سندھ کا پانچ لاکھ ٹن کا کوٹہ مقرر کیا جس میں سے سندھ حکومت نے رواں سال جنوری تک بھاگم بھاگ دو لاکھ ٹن گندم وصول کی جس سے ملک میں بحران پیدا ہوا۔

وزیرِ اطلاعات پنجاب نے مزید بتایا کہ بزدار حکومت نے گزشتہ دس سال کا ریکارڈ توڑتے ہو ئے اکتالیس لاکھ ٹن گندم کا ہدف پورا کیا جبکہ سندھ نے اس سال چودہ لاکھ ٹن کے ٹارگٹ میں سے ساڑھے بارہ لاکھ ٹن پورا کیا۔ بزدار حکومت نے چودہ سو روپے فی من گندم کا ریٹ مقرر کر کے مقررہ مدت سے دو ماہ پہلے فلور ملوں کو روزانہ سترہ ہزار ٹن گندم ریلیز کرنا شروع کر دی۔ اب تک بزدار حکومت فلور ملوں کو ساڑھے بارہ لاکھ ٹن گندم ریلیز کر چکی ہے۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے ابھی تک فلور ملوں کو ایک دانہ گندم ریلیز نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور سندھ حکومت کی انتظامی نااہلی کی وجہ سے صوبوں کے درمیان اسمگلنگ بڑھنے سے گندم کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر سندھ حکومت نے فلور ملوں کو گندم ریلیز نہ کی تو بحران مزید بڑھے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بزدار حکومت نے پنجاب سمیت اسلام آباد اور کے پی کے کے لیے بھی اربوں کی سبسڈی دے کر گندم کی قیمت کم رکھی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم عمران خان سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت بھی صوبوں کو گندم کا اجراء شروع کرے تا کہ اس مشکل صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔