توایک ابر بھی سیلاب کے برابر ہے

توایک ابر بھی سیلاب کے برابر ہے

وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا ایک پھر دورہ کیا۔ اس موقعے پر انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ذاتی پسند اور ناپسند سے بالاتر ہوکر قوم کی خدمت کرنی ہے ، ہم مشکل وقت سے متحد ہوکر نکلیں گے، متاثرہ سڑکوں کو جلد از جلد بحال کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے بی بی نانی پنجرہ پل کی بحالی میں مصروف عملہ کے لیے پچاس لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا۔ دوسری جانب سیلاب سے سندھ کی سیکڑوں بستیاں زیر آب آگئی ہیں۔ صوبے کے شہروں سیہون اور دادو کو بچانے کے لیے باغ یوسف کے قریب منچھر میں شگاف ڈال دیا گیا ہے۔ خیبر پختون خوا میں پھر سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ سیلاب متاثرین کے لیے عالمی اداروں کی جانب سے امدادی سامان سے بھری پروازوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ملک کے چاروں صوبے سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا شکار ہیں۔ ملک کا شمالی اور جنوبی حصوں کا زمینی رابطہ یا تو منقطع ہے یا محدود ہے، لاکھوں لوگ اپنے گھر ، مال مویشی اور روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اور درد و غم کی تصویر بنے کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔

عبیداللہ علیم نے کہا تھا ؎

اگر ہوں کچے گھروندوں میں آدمی آباد

توایک ابر بھی سیلاب کے برابر ہے

سیلاب کی تباہ کاریوں اور اس کی وسعت کا احوال تو ہم روزانہ اپنی آنکھوں سے دیکھ اور کانوں سے سن رہے ہیں۔ ماضی میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب 2010ء میں آیا تھا جس کو بارہ برس گزر چکے اور امسال کا یہ سیلاب گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ اس سیلاب نے ہم پاکستانیوں کو ایک نئی موسمی اصطلاح سے روشناس کروا دیا ہے۔

کلاؤڈ برسٹ کا اردو ترجمہ ’’بادلوں کا پھٹنا ‘‘ہے۔ بادلوں میں آبی بخارات ہوتے ہیں ، جو مون سون کے موسم میں زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ہوا جب ان آبی بخارات سے لبریز بادلوں کو پہاڑوں کی جانب اڑا لے جاتی ہے اور وہاں یہ بادل پہاڑوں سے ٹکراتے ہیں تو بارش بن کر برس پڑتے ہیں ، لیکن اگر پہاڑ زیادہ دور ہوں تو یہ بادل نیم کوہستانی علاقوں میں بھی برسٹ ہو جاتے اور برسنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ ’’پھٹاؤ ‘‘ اچانک ہوتا ہے اور بارش اس قدر تیز اور ناگہانی ہوتی ہے کہ زمینی آبادیوں کی پرواہ نہیں کرتی۔ اس موسم میں بحیرہ عرب سے اٹھ کر جو بادل جنوبی پاکستان کی طرف بڑھتے ہیں ، وہ اتنے بوجھل ہوتے ہیں کہ ساحل کراس کرتے ہی برس جاتے ہیں۔ کراچی ، بدین ، ٹھٹھہ وغیرہ میں اس برس یہی کچھ ہو رہا ہے۔ بارشیں ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ موسم کی تبدیلی ہے۔ آب و ہوا کی یہ تبدیلی موجودہ مون سون میں بدتر صورت اختیار کر رہی ہے۔

آزادی کے بعد پاکستان میں اس طرح کے کئی ایک تباہ کن سیلاب آچکے ہیں۔ کیا ان سیلابوں کو کامیابی سے روکا جا سکتا ہے؟ آج کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں بالکل ممکن ہے۔ یہ سیلابی پانی کشمیر کی پہاڑیوں سے گزر کر پاکستان کے میدانوں میں داخل ہوتا ہے اور وہاں تباہی مچاتا ہے۔ قدرت نے جہاں بے شمار میدان بنائے ہیں‘ وہاں آسمانوں کو چھوتے ہوئے پہاڑ بھی بنا رکھے ہیں۔ ان پہاڑوں میں سیلابی پانی کو کامیابی سے روکا جا سکتا ہے۔ اسی پانی سے بجلی بنائی جا سکتی ہے۔ یہی پانی پھر اراضیات کو سیلاب کرتا ہے اور ان سے بے شمار قیمتی اشیائے خوردنی پیدا ہوتی ہیں۔

طرح طرح کے پھل کھانے کو ملتے ہیں۔ قانون قدرت کے مطابق پانی اونچائی سے نیچے کی طرف آتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں ان گنت چھوٹے بڑے ڈیمز بنا کر سیلاب کے مسئلے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ذخیرہ شدہ پانی تباہی سے محفوظ رکھے گا اور ساتھ ہی ساتھ اس پانی کو انسان اور حیوان پی سکیں گے۔ فالتو پانی سے اراضیات کی آبپاشی ہوگی۔ پانی کے بغیر کامیاب زراعت ممکن نہ ہے۔

پانی ہوگا تو یہ قیمتی فصل چاول اگ سکے گی۔ فالتو پانی کو گھروں اور کھیتوں میں کامیابی سے جمع کیا جاسکتا ہے۔ صرف اور صرف عام آگاہی کی ضرورت ہے۔ گھروں میں بارش کے پانی کو جمع کیا جا سکتا ہے۔ ویسے تو ہر گھر میں پانی کے ٹینک ہوتے ہیں۔ یہ ٹینک زمین دوز ہونگے تو انتہائی پختہ ہونگے۔ گھر کا سارا بارش کا پانی اس میں جمع ہوگا۔

کالا باغ ڈیم کو خوش اسلوبی سے سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی خواہش کے عین مطابق تعمیر کیا جا سکتا ہے ، صوبے اپنی مرضی سے ڈیم کی اونچائی کا تعین کریں۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے سب سے زیادہ فائدہ سندھ میں رہنے والے پاکستانیوں کو ہوگا۔ ان کے خشک دریا زندہ ہو جائیں گے۔ نئی نہریں وہاں تعمیر ہونگی۔ گھر گھر خود بخود پانی پہنچ جائے گا۔

منگلا ڈیم کی تعمیر سے کئی کئی میل تک زیر زمین پانی آگیا ہے۔ جگہ جگہ نئے پانی کے چشمے اُبل پڑے ہیں۔ وہ علاقے جہاں پانی کی بوند بوند کو لوگ ترستے تھے آج ان کے گھروں میں پانی کے نلکے اور ٹیوب ویلز لگ چکے ہیں۔ اس طرح سندھ کے ویران علاقے گل و گلزار میں تبدیل ہو جائیں گے۔ پاکستان کے پسماندہ علاقے ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔ قدرت نے ہمیں دنیا کے بڑے بڑے پہاڑوں سے نواز رکھا ہے۔ جہلم شہر اور دیگر وسیع علاقے ہمیشہ دریائے جہلم میں طغیانی سے تباہ و برباد ہوتے رہتے تھے۔

آج منگلا ڈیم کی تعمیر سے نہ صرف ہمیشہ کے لیے جہلم اور دیگر شہر محفوظ ہو گئے ہیں بلکہ ڈیم سے بجلی بنتی ہے ، جو ہمارے شہروں کو روشن کر رہی ہے۔ کالا باغ ڈیم بنائیں گے تو ہمارا پیارا سندھ اور دیگر علاقے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیلاب کی تباہی سے محفوظ ہو جائیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ سرزمین سندھ کے غیر آباد علاقے آباد ہونگے۔ ہمارا پاکستان ترقی کی منزل طے کرتا چلا جائے گا۔

سندھ بلوچستان، خیبر پختونخوا کے لوگ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔ ہم پہلے ہی بہت وقت ضایع کر چکے ہیں۔ پارلیمنٹ ہی وہ واحد ادارہ ہے جو ہمیں سیلاب کی تباہ کاریوں سے بڑی حد تک محفوظ بنا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ اپنے اگلے اجلاس میں کالا باغ ڈیم اور دیگر ڈیمز پر بحث کا آغاز کرے اور کالا باغ ڈیم کو قابل عمل ڈیم بنائے۔ اس ڈیم سے متعلقہ تمام خیالی خدشات کو ایک ایک کرکے ہمیں ختم کرنا ہوگا، یہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اس نازک صورتحال میں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے تمام قوم کو متحد اور یکسو ہونا چاہیے۔ کسی بھی قسم کے رنگ و نسل اور نظریات کی تقسیم اس موقعے پر رکاوٹ ہرگز نہیں بننی چاہیے۔ یہ بات خوش آیند ہے کہ سیاسی قیادت سیلاب زدگان کی مدد کے سلسلے میں یک زبان ہورہی ہے لیکن ضرورت اس امر ہے کہ کچھ عرصے کے لیے تمام سیاسی قائدین ہر قسم کے اختلافات بھلا کر صرف متاثرین کی امداد اور بحالی پر توجہ دیں۔

سیلابی صورتِ حال سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جن امدادی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے، ان میں چھوٹی کشتیاں، ہیلی کاپٹر، خیمے اور دریاں وغیرہ ، اشیائے خورونوش ، پینے کے پانی کی فراہمی اور طبی سہولیات شامل ہیں۔ چونکہ یہ سیلاب ، بلوچستان ، سندھ ، خیبر پختونخوا اور جنوبی پنجاب کے وسیع علاقوں میں آیا ہے اس لیے درجِ بالا سامان وغیرہ کی فراہمی، ان کی لوکیشن اور ان کے عملے کا رہائشی بندوبست وغیرہ ضروری ہے۔ ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کے اسٹور کرنے کی جگہوں کا تعین اور ایک معینہ عرصے کے بعد ان کے استعمال کی پریکٹس کے لیے ایکسرسائز وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔

دوست ممالک اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے امدادی سرگرمیوں میں کیا جانے والا تعاون لائقِ ستائش ہے۔ یہ بھی اچھی بات ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کو اس بات کا احساس ہے کہ یہ وقت سیاسی مسائل میں الجھنے کا نہیں بلکہ اس وقت ساری توجہ سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے کام پر لگائی جانی چاہیے لیکن سیاسی قیادت کو آگے بڑھ کر خود بھی متاثرین کی بحالی کے لیے مالی مدد کا اعلان کرنا چاہیے۔ ہر سیاسی جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ابتلاء اور آزمائش کی اس گھڑی میں عوام کے لیے اپنا مال خرچ کر کے سیاسی رہنما قوم کو یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ وہ واقعی قوم کے دکھ درد میں شریک ہیں اور ایسے وقت پر عوام کو تنہا نہیں چھوڑتے۔