نمزاور ترکش ایج یونیورسٹی کے اشتراک سے لیشمانیاسزکی تشخیص و علاج کے بارے دو سالہ مشترکہ تحقیقی منصوبے پر کام شروع

نمزاور ترکش ایج یونیورسٹی کے اشتراک سے لیشمانیاسزکی تشخیص و علاج کے بارے دو سالہ مشترکہ تحقیقی منصوبے پر کام شروع

راولپنڈی :نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (نمز) نے ترکش ایج یونیورسٹی کے اشتراک سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاقوں میں پائی جانے والے جلدی مرض لیشمانیاسز کی تشخیص و علاج کے بارے میں دو سالہ مشترکہ تحقیقی منصوبے پر کام شروع کر دیا ۔ نمزیونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)سید محمدعمران مجید ہلال امتیاز (ملٹری) نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان میں گرم خطہ کی نظر انداز شدہ بیماریوں (این ٹی ڈیز )کے معاشی اثرات کے بارے میں مجموعی طور پر اگرچہ بہت کم کام ہوا ہےمگر دیگر کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے تجربہ کی بنیاد پر ہمارااندازہ ہے کہ پاکستانی معاشرے کی بڑی تعداد انہی حالات کے اثرات کی وجہ سے غربت کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت صحت نے ویکسی نیشن کے ذریعے بیماریوں کی روک تھام کے حوالہ سے صحت عامہ کے شعبہ میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن این ٹی ڈیز کو بھی ان کامیابیوں میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر این ٹی ڈیز پاکستان اور دنیا کے دیگر خطوں میں پسماندہ علاقوں میں پائی جاتی ہیں اور یہ پیلیا ، ڈینگی اور لیپروسی جیسے امراض کاسبب بن سکتی ہیں۔ نمز اور ترکی ٹیکنالوجیکل ریسرچ کونسل کے مشترکہ منصوبے کا مقصد اس مرض سے متعلق مالیکیولر شناخت اور مریض کے مدافعاتی ردعمل کاتجزیہ کرناہے۔نمز کے بیالوجیکل سائنسز کے شعبہ کی اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر شمائلہ ناز نے کہا کہ نمز اور ایج یونیورسٹی لیشمانیاسزکی تشخیص اور علاج کے لئے مل کر کام کررہی ہیں۔

لیشمانیاسز ایک گرم علاقے کی بیماری ہے جسے نظر انداز کیا گیا ہے اور اس سے دنیا بھر میں تقریباً 2 ارب لوگ متاثر ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا این ٹی ڈیز روڈ میپ برائے 2021 تا2030 انسانی اور اقتصادی ترقی کے اہم راستے کے طور پر اینیمل ۔ہیومن ۔ایکوسسٹمز کے صحت کے خطرات سے نمٹنے کے لئے ون ہیلتھ کے طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ پاکستان سائنٹیفک فائونڈیشن اور ترکی کی ٹیکنالوجیکل ریسرچ کونسل اس مرض کے بارے میں تحقیقی منصوبہ کے لئے مشترکہ طور پر فنڈنگ کررہے ہیں۔ یہ دونوں ادارے 6 مختلف شعبوں بشمول ارضیاتی سائنسز ، ایروناٹکس ، میٹریل سائنسز، بائیوٹیکنالوجی ، قابل تجدید توانائی اور ماحولیاتی سائنس میں 10 دیگر منصوبوں کی بھی فنڈنگ کررہے ہیں۔

ڈاکٹر شمائلہ نے کہا کہ ہماری ٹیم لیشمانیاسز کی تشخیص کے لئے مجموعی طریقہ کار بھی وضع کرے گی جس کے نتیجہ میں افراد اور معاشرے کی سطح پر اس بیماری کے مفید انتظام میں مدد ملے گی۔ عالمی ادارہ صحت کے زیر اہتمام آج عالمی یوم صحت منایاجا رہا ہے۔ اس موقع پر ڈبلیو ایچ او ایک سالہ طویل عالمی مہم کے حصہ کے طورپر صحت کے حوالے سے تفریق کے خاتمہ کے لئے عملی اقدامات پر زور دے رہا ہے تاکہ ایک بہتر اور صحت مند دنیا فروغ پاسکے۔ یہ مہم ڈبلیو ایچ او کے آئینی اصول ’’ کسی بھی انسان کے لئے نسل ، مذہب ، سیاسی نظریے ، معاشی اور سماجی حیثیت کے امتیاز کے بغیر بلند ترین قابل حصول معیار صحت حاصل کرنا بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے‘‘، کی بنیاد پر ہے