آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی زیر صدارت سنٹرل پولیس آفس میں ویڈیو لنک کانفرنس

اے آئی جی فنانس اور آر پی اوز اضلاع کی فنانشنل مینجمنٹ اورترقیاتی پراجیکٹس کی مانیٹرنگ رپورٹس باقاعدگی سے بھجوائیں۔ آئی جی پنجاب

 آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی زیر صدارت سنٹرل پولیس آفس میں ویڈیو لنک کانفرنس

لاہور:-انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر نے کہا ہے کہ پولیس اسٹیشن محکمہ پولیس میں بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس بنیادی اکائی کی ورکنگ اور وقار کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے افسران بھرپور سپروائزری کردار ادا کریں تاکہ انصاف کی بلاتاخیر فراہمی سے شہریوں کے مسائل بروقت حل ہوسکیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ ورکنگ کے آئیڈیاز پر مشتمل (سپیشل انیشئیٹو) ماڈل پولیس اسٹیشنز پولیسنگ کے روایتی ماڈل کو تبدیل کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ موثر مانیٹرنگ سے سپیشل انیشئیٹوپولیس اسٹیشن کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے، انہوں نے سپیشل انیشئیٹو پولیس اسٹیشن کی انسپکشن میں گوجرانوالہ ریجن کو مجموعی طور پر اچھی پرفارمنس پر شاباش دی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ٹریفک حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی تکلیف دہ امر ہے چنانچہ سنگین اور جان لیوا حادثات میں ڈرائیورز کے لائسنس ضبط اور منسوخ ہونے کی شرح مزید بہتر کیا جائے۔ آئی جی پنجاب نے ٹریفک حادثات کے مقدمات کی تفتیش میں تاخیر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ٹریفک حادثات کے زیر تفتیش مقدمات کے چالان جلد از جلد مکمل کرکے عدالتوں میں بھجوائے جائیں اورڈی پی اوز یقینی بنائیں کہ ٹریفک حادثات کے مقدمات میں دفعہ322کا غلط استعمال ہر گز نہ ہو۔ انہوں نے مزیدکہاکہ حوالات، فرنٹ ڈیسک اور ایس ایچ او روم میں کیمروں کی تنصیب کا مقصد موثرمانیٹرنگ اور پرفارمنس کو بہتر سے بہتر بنانا ہے چنانچہ فرنٹ ڈیسک، حوالات اور ایس ایچ او رومز میں لگے کیمروں کی مانیٹرنگ کو ڈی پی اوز روزانہ کی بنیاد پر یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی تھانے کی حوالات یا فرنٹ ڈیسک میں کیمرہ ایک ہفتہ سے زیادہ خراب پایا گیا وہاں ذمہ داران کے خلاف کاروائی میں تاخیر نہ کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جرائم کنٹرول کرنے کی کاوشوں کے ساتھ ساتھ مقدمات کے ورک آؤٹ کرنے کی شرح کو بھی بہتر سے بہتر کیا جائے اور قتل، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے جدیدٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔انہوں نے مزیدکہا کہ سنگین جرائم میں کرائم سین یونٹ کا وزٹ نہ کرنے والے تفتیشی افسران کے خلاف فوری محکمانہ کاروائی کو یقینی بنایا جائے جبکہ(PFSA)  پی ایف ایس اے سے رپورٹ وصولی کے باوجودرپورٹ نہ ملنے کا بہانہ بنانے والوں سے سختی سے بازپرس کی جائے  اور ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن ایسے تفتیشی افسران سے جواب طلبی کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کرکے محکمانہ کاروائی کریں۔انہوں نے مزیدکہاکہ خواتین اور بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جرائم کی روک تھام کیلئے تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز بروقت اقدامات کے علاوہ ان مقدمات کی تفتیش اپنی نگرانی میں کروائیں جبکہ قتل، زیادتی سمیت دیگر سنگین جرائم کی تفتیش کیلئے جیو فینسنگ، فارنزک سائنس اور جدید انویسٹی گیشن ٹولز سے بطور خاص استفادہ کیا جائے تاکہ ان جرائم میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عمل تیز سے تیز تر ہوسکے۔ انہوں نے مزیدکہا کہاے آئی جی فنانس اور تمام آر پی اوز اضلاع کی فنانشنل مینجمنٹ اورترقیاتی پراجیکٹس کی مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں جبکہ ڈی آئی جی لیگل قانونی معاملات کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے حوالے سے زیر تکمیل ایپ کا بقیہ کام جلد از جلداپنی نگرانی میں مکمل کروائیں تاکہ ان حساس امور کو بہتر طور پر نمٹایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں منعقدہ ویڈیو لنک کانفرنس کے دوران افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کیا۔ دوران کانفرنس سپیشل انیشئیٹو پولیس اسٹیشن، کرائم سین یونٹ کی کارکردگی، حوالات کی مانیٹرنگ اور ڈسپلن میٹرکس سمیت دیگر امور زیر بحث آئے۔

کانفرنس میں ایڈیشنل آئی جی ٹریفک، ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن،ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز، ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ، ڈی آئی جی آئی ٹی اور ڈی آئی جی لیگل نے زیربحث امور کے حوالے سے بریفنگ پیش کیں جبکہ آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آئی جی پنجاب نے افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مزیدکہاکہ لاؤڈ اسپیکر ایکٹ، وال چاکنگ اور نفرت انگیز مواد کی نشر و اشاعت کے خلاف کاروائیوں میں قطعی رعائیت نہ برتی جائے اور محرم الحرام کی آمد کے پیش نظر حساس امام بارگاہوں، جلوس روٹس اور مجالس کے سیکیورٹی پلان کیلئے تیاریوں کا آغاز کردیا جائے بالخصوص فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نگرانی کے عمل میں مزید سختی لائی جائے اور تمام اضلاع میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت بنائے گئے قوانین کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ حساس اضلاع میں سرچ، سویپ، کومبنگ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید تیزی لائی جائے اور کرایہ داری ایکٹ کے خلاف ورزی پر مالک پراپرٹی اور کرایہ دار کے خلاف کاروائی میں ہر گز تاخیر نہ کی جائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کی گرفتاری کیلئے بین الصوبائی اور بین الاضلاعی چیک پوسٹوں پر چیکنگ اور نگرانی کا عمل مزید سخت کیا جائے اورمحرم سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اگر کسی ضلع کوکوئی مدد درکار ہے تو فوری طور پر سنٹرل پولیس آفس کی آپریشنز برانچ کو مطلع کیا جائے تاکہ انکی فی الفورفراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ کانفرنس میں ایڈیشنل آئی جی، کیپٹن (ر) ظفر اقبال اعوان، ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس، طارق مسعود یٰسین، ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی، اظہر حمید کھوکھر، ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ پنجاب، شاہد حنیف، ایڈیشنل آئی جی لاجسٹکس اینڈ پروکیورمنٹ، علی عامر ملک، ایڈیشنل آئی جی آر اینڈ ڈی، غلام رسول زاہد، ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ پنجاب، بی اے ناصر، ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب، فیاض احمد دیو،ایڈیشنل آئی جی ٹریفک پنجاب صاحبزادہ شہزاد سلطان،ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، محمد طاہر رائے، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، زعیم اقبال شیخ ڈی آئی جی آئی ٹی، وقاص نذیر،ڈی آئی جی آئی اے بی عمران محمود، ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب، سہیل اختر سکھیرا، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز، خرم علی شاہ اور ڈی آئی جی لیگل، جواد احمد ڈوگرسمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔٭٭٭٭٭