افغانستان میں دیرپا امن کے لیے گفت وشنید کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،امریکا امن مذاکرات میں بیٹھے نہ بیٹھے,افغانوں کو اس میں بیٹھنا ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

افغانستان میں دیرپا امن کے لیے گفت وشنید کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،امریکا امن مذاکرات میں بیٹھے نہ بیٹھے,افغانوں کو اس میں بیٹھنا ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

اسلام آباد :وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن کے لیے گفت وشنید کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،امریکا امن مذاکرات میں بیٹھے نہ بیٹھے,افغانوں کو اس میں بیٹھنا ہے۔بدھ کو افغانستان کی صورتحال کے حوالے اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان تنازعہ صرف گفت وشنید سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔اپنے مستقبل کا فیصلہ افغانیوں نے کرنا ہے۔

افغان حکومت اور طالبان نے مل بیٹھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں کس قسم کا افغانستان اور جمہوریت چاہیے۔امن کے راستے میں افغانستان کی بقا ہے۔ میری تو پہلے دن سے خواہش ہے کہ وہ مل بیٹھیں اور اپنے معاملات حل کریں ۔امریکی کردار کے حوالے سے وزیرخارجہ نے کہا کہ سب سے اہم ذمہ داری افغان قائدین یا طالبان رہنماؤں کی ہے ۔افغان عوام امن چاہتی ہے،طالبان کو بھی یہ سوچنا چاہیے ہے کہ وہ دنیا سے لاتعلق نہیں رہ سکتے اگر انہوں نے دنیا میں اپنے عزت و وقار میں اضافہ کرنا ہے تو انہیں مین سٹریم اور انگیج کرنا ہو گا۔اگر انہوں نے دنیا سے انگیج کرنا ہے تو پھر پھر انہیں تشدد کا راستہ ترک کرنا اور امن کے راستے کو اپنانا ہوگا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم رائے دے سکتے ہیں فیصلہ نہیں، فیصلہ انہوں نے کرنا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ شنید ہے کہ طالبان جلد امن تجاویز پیش کرنے والے ہیں، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک اچھی پیش رفت ہوگی ۔میرے خیال میں دوحا مذاکرات میں بھی پر امید جھلک دکھائی دے رہی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کوئی طاقت عوام کی رائے کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی،رائے عامہ کو ہموار کرنا پڑتا ہے جس نے بھی حکمرانی کرنی ہے اگر وہ عوامی رائے سے لاتعلق ہیں تو وہ حکمرانی دیرپا نہیں ہوگی۔افغان دھڑوں کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان تنازع کے دیرپاحل کے لیے تمام افغان فریقوں کو مل کر بیٹھنا ہوگا،ہم نے تمام افغان دھڑوں سے رجوع کیا اور سب کو انگیج کیا۔ہمارا کوئی فیورٹ نہیں اور نہ ہی ہمارا کسی کی طرف خاص جھکاءوہے۔

انہوں نے کہا کہ کہ جو فیصلہ افغان عوام کریں گے ہم قبول کرینگے اور تعاون کریں گے۔ ہم افغانستان میں امن اور عوام کی خوشحالی چاہتے ہیں اور افغانستان کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی چاہتے ہیں