ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا نیویارک میں اقوام متحدہ کے پولیٹیکل فورم برائے پائیدار ترقی سے خطاب

ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا نیویارک میں اقوام متحدہ کے پولیٹیکل فورم برائے پائیدار ترقی سے خطاب

اسلام آباد :سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت نے نیویارک میں اقوام متحدہ کےاعلیٰ سطحی پولیٹیکل فورم برائے پائیدار ترقی سے خطاب کیا۔ ٹاؤن ہال طرز پر منعقدہ پولیٹیکل فورم میں 43 ممالک شرکت کر رہے ہیں۔فورم اقوام متحدہ کی معاشی و سماجی کونسل کے زیراہتمام پاکستان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے اجلاس کا آغاز کیا۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر ثانیہ نے کورونا وبا کے تناظر میں حکومت پاکستان کا کردار اور لائحۂ عمل پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے تناظر میں احساس ایمرجنسی کیش کی تقسیم مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر مشتمل تھی اور سماجی تحفظ اور انسانی وسائل کی ترقی کورونا سے پہلے بھی حکومت پاکستان کی ترجیحات میں شامل تھے۔سماجی تحفظ کے اعتبار سے حکومت پاکستان کے اقدامات اور ان کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ کا کہنا تھا کہ مستفید ہونے والی آبادی کے تناسب سے احساس ایمرجنسی کیش دنیا کا تیسرا بڑا پروگرام قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ کا مزید کہنا تھا کہ سماجی تحفط کے اس ملک گیر ہنگامی پروگرام کے توسط سے ہم نے تین اہم اسباق سیکھے ہیں۔اول، سماجی تحفظ کے پروگراموں کو شفاف بنانے کےلیئے حقائق پر مبنی ڈیٹا اور ترسیل کا جدید نظام، دوئم، مالیاتی اور ڈیجیٹل آگاہی کے ذریعے سماجی تحفظ میں مالیاتی اور ڈیجیٹل شمولیت کو یقینی بنانا۔سوئم، وبا کے تناظر میں انسانی وسائل کا بھرپور تحفظ تاکہ ہنگامی صورتحال میں منفی رجحانات کا سدباب ہو۔

بعد ازاں ڈاکٹر ثانیہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے عالمی مراسلہ نگاروں اور نامہ نگاروں کو کورونا وبا کے پس منظر میں احساس پر تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان ان پہلے چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے کورونا وبا سے نمٹنے کیلیئے موثر اور ٹھوس اقدامات کیئے۔ احساس کے تحت صحت، تعلیم اور معاشی ترقی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات بھی گفتگو کا حصہ رہے۔ڈاکٹر ثانیہ سہ روزہ دورے پر نیویارک میں موجود ہیں ۔وہ دورے کے دوران اقوام متحدہ کی دیگرکئی ذیلی میٹنگز میں بھی شرکت کریں گی