ڈیجیٹل لرننگ ’’میرا سبق‘‘ نے بچوں کی مشکل آسان کردی

 ڈیجیٹل لرننگ ’’میرا سبق‘‘ نے بچوں کی مشکل آسان کردی

کراچی: ڈیجیٹل لرننگ کے طریقے نے وسائل سے محروم طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کی مشکل آسان کردی۔

خصوصی طورپر تیار ٹوڈی اور تھری ڈی اینیمیٹڈ وڈیوز، کوئز، گیمز اور مشقوں نے تعلیم کو دلچسپ بنادیا، کراچی سمیت ملک بھر میں 2 ہزار سے زائد اسکولوں نے پاکستانی نوجوانوں کے متعارف کردہ ای لرننگ سلوشنز ’’میرا سبق‘‘ کے ذریعے پرائمری اسکولنگ کو جدت سے ہم آہنگ بنادیا اب تک 3لاکھ سے زائد بچے ڈیجیٹل لرننگ سے استفادہ کرچکے ہیں،  میرا سبق لرننگ سسٹم کے شریک بانی حسن بن رضوان کے مطابق پاکستان میں پرائمری ایجوکیشن کے نظام کو بہتر بناکر خواندگی کو پائیدار بنیادوں پر بڑھایا جاسکتا ہے زیادہ تر بچے پرائمری کی سطح سے ہی اسکول چھوڑ جاتے ہیں جس نصاب کاغیر دلچسپ ہونا اور روایتی طریقہ تعلیم اہم وجوہات ہیں۔

ان مشکلات کو دیکھتے ہوئے انجینئرنگ، الیکٹریکل اور کمپیوٹر سائنس سمیت بزنس ایڈمنسٹریشن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنیو الے حسن بن رضوان نے 2016میں میرا سبق کی بنیاد رکھی جس کا مشن پاکستان میں پرائمری تعلیم کو ڈیجیٹل لرننگ سلوشنز کے ذریعے دلچسپ اور موثر بنانا تھا تاکہ ایسے اسکول جو وسائل نہیں رکھتے انہیں خصوصی طور پر تیار کردہ لرننگ پراڈکٹ کے ذریعے بچوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے میں  مدد فراہم کی جاسکے، میرا سبق کی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ اپنی ای لرننگ پراڈکٹس کو سرکاری اسکولوں، کمیونٹی کے تحت چلائے جانے والے اسکولوں اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے نجی اسکولوں میں متعارف کرایا ہے زیادہ تر پراڈکٹ مفت ہیں جبکہ باقی پراڈکٹ بھی کم قیمت ہیں۔

’’میرا سبق‘‘ نے اساتذہ کیلیے بھی تدریس کا عمل آسان بنادیا

میرا سبق صرف بچوں کے لیے ہی نہیں اساتذہ کے لیے بھی تدریس کے عمل کو آسان اور موثر بناتا ہے، اساتذہ کے لیے خصوصی طور پر ورک شیٹ، لیسن پلان اور الیکٹرانکس بکس تیار کی گئی ہیں، حسن بن رضوان کے مطابق الیکٹرانک اور ڈیجیٹل لرننگ کے طریقے سے اسکول کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے ایسے اسکول جو وسائل یا مہارت کی کمی کی وجہ سے ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرتے میرا سبق ایسے اسکولوں کی معاونت کرتا ہے اور بچوں میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق بڑھتا ہے۔

جن اسکولوں میں الیکٹرانکس لرننگ اور میرا سبق کے تیار کردہ مواد سے تعلیم دی گئی ان اسکولوں میں بچوں کی حاضری میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حسن بن رضوان نے بتایا کہ وہ پری پرائمری کی سطح کے بچوں کے لیے خصوصی ایپلی کیشن بھی تیار کررہے ہیں اس کے ساتھ اساتذہ کے لیے بھی پلیٹ فارم تشکیل دیا جارہا ہے جو ورک شیٹس، لیسن پلان کے ذریعے اساتذہ کو معاونت فراہم کرے گا۔

یو ایس اے آئی ڈی نے ’’میرا سبق‘‘ کو مالی معاونت فراہم کی

’’میرا سبق‘‘ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکا کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس اے آئی ڈی) نے بھی ’’میرا سبق‘‘ کو مالی معاونت فراہم کی، یہ معاونت یو ایس ایڈ کے 5 سالہ پروگرام اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ایکٹوٹی (ایس ایم ای اے) کے چیلنج فنڈ کے تحت فراہم کی گئی جس کا مقصد پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور انٹرپرنیوررز کو سپورٹ کرتے ہوئے روزگار اور آمدن حاصل کرنے کے مواقع بڑھانا ہے، چھوٹے درجے کے کاروبار کی ترقی کے لیے امریکی معاونت مسابقتی صلاحیت بڑھانے، فروخت اور ایکسپورٹ میں اضافہ کرنے ، مارکیٹ تک رسائی بڑھانے نئی ٹیکنالوجیز اختیار کرنے اور روزگار کے مواقع بڑھانے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔

اینوویٹیوگرانڈاور ایس ایم ای گروتھ گرانٹس کے 2 پروگرام چل رہے ہیں

یو ایس اے آئی ڈی کے تحت اینوویٹیو گرانڈ اور ایس ایم ای گروتھ گرانٹس کے نام سے دو پروگرام چلائے جا رہے ہیں جس میں رجسٹرڈ مقامی کاروبار، غیرمنافع بخش تنظیمیں اور انفرادی انٹر پرنیوررز حصہ لے سکتے ہیں اس گرانٹ کے پہلے رائونڈ کے نتیجے میں پاکستان میں کل وقتی روزگار کے 500 ملازمتوں کے امکانات پیدا ہوں گے جبکہ حکومت کو 33لاکھ ڈالر کا ریونیو ملے گا اور پاکستان سے برآمدات میں 28 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک کا اضافہ ہوگا، میرا سبق جیسے متعدد نئے کاروباری آئیڈیاز کو امریکی معاونت سے فروغ دینے اورپاکستان میں ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ترقی کا عمل تیز بنانے میں مدد ملی۔

کورونا وبا میں 100 اسکولوں میں ’’میرا سبق‘‘ ایپلی کیشن سے آن لائن تعلیم دی گئی

ای لرننگ سلوشنز’’میرا سبق‘‘ کے شریک بانی حسن بن رضوان نے بتایا کہ کورونا کی وبا کے دوران جہاں تدریس کا سلسلہ متاثر ہوا میرا سبق نے سندھ حکومت کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے سندھ کے 100 اسکولوں میں ’’میرا سبق‘‘ ایپلی کیشن کے ذریعے بچوں کو آن لائن تعلیم فراہم کی تاکہ کورونا کی وجہ سے ان کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔